شیراز حملے بارے ایرانی حکومت کا بیانیہ مشکوک، پاسداران انقلاب کے اہلکار پر شبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں شیراز شہرمیں ایک امام بارگاہ میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم [داعش] کی جانب سے قبول کیے جانے کے باوجود ایرانی سرکاری بیانیے کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

کئی ایرانی جماعتوں نے پاسداران انقلاب کے ایک سابق اہلکار پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ہے۔

پہلے ایرانی ٹیلی ویژن نیٹ ورک (tv1irib_sima) سے وابستہ ٹیلیگرام ایپلی کیشن پر ایک چینل نے ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ اور عالم دین حسین طائب کی اس واقعے میں ممکنہ ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

ٹیلی گرام چینل نے شیراز حملے کے حوالے سے گذشتہ ستمبر سے جاری مظاہروں کے دوران حکومت کی "تحمل" کا موازنہ کیا اور ساتھ ہی کہا کہ طائب کے ایک احمقانہ عمل سے ملک کو خطرے خطرے میں پڑ گیا۔

اس کے علاوہ اس نے حسین طائب کی نااہلی اور ملازمت کی وجہ سے پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس پریذیڈنسی سے برطرفی کا حوالہ دیا۔

حادثے کا انتظام

رپورٹ کے مطابق "اس دیوالیہ، آلودہ اور مشکوک گروہ نے شاہ چراغ کے مکروہ واقعے کو ترتیب دے کر حکومت کو مشکل میں ڈالنے کے لیے ایک اور اندرونی اور بین الاقوامی رسی بُنی ہے۔"

"شاہ چراغ کے سکورٹی اہلکار جنہوں نے ایک مہربان ایجنٹ کے لیے آسانی سے مزار میں ہتھیار داخل کرنے کے لیے دروازے کھولے، وہ بھی اس میں ملوث ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ بدھ کو شاہ چراغ مسجد میں ایک مسلح حملے میں متعدد نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں موسیٰ کاظم کے بیٹوں احمد اور محمد بھائیوں کی قبر بھی شامل ہے۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اگرچہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم سماجی پلیٹ فارمز پر بہت سے ایرانی کارکنوں نے، جن میں معروف شخصیات بھی شامل ہیں، حکومتی بیانیے کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں