’نور ریاض‘ آرٹ نمائش میں 190 سے زائد فن پاروں سے سعودی دارالحکومت ’مُزین‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 3 سے 19 نومبر کے درمیان دنیا میں روشنی کے فنون [لائٹ آرٹ ورک] کی سب سے بڑی نمائشی تقریبات شروع ہو رہی ہیں۔ یہ تقریبات "نور ریاض 2022" کے عنوان کےتحت منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد مُملکت کے ثقافتی اور فنکارانہ منظر کو 190 سے زیادہ فن پاروں سے روشن کرنے کے ساتھ 500 مختلف دیگر ایونٹ منعقد کرنا ہے۔

’نور الریاض‘ کا اس سال ایڈیشن "ہم نئے افق کا خواب دیکھتے ہیں" کے سلوگن کے تحت 40 مقامات پر منعقد کیا جائے گا، جس میں پورے دارالحکومت میں پانچ مرکزی مقامات شاہ عبداللہ پارک، سلام پارک، ڈپلومیٹک انکلیو، جیکس کالونی اور کنگ عبداللہ فنانشل "کافد" جیسے مراکز شامل ہیں۔

اس جشن میں ایک نمائش بھی شامل ہے، جو 3 نومبر سے 4 فروری 2023 تک جیکس کے پڑوس میں "فرام ریڈیئنس ٹو پاسیشن" کے نعرے کے تحت منعقد کی جائے گی۔

’نور الریاض‘ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض آرٹ پروجیکٹ کا ایک پروگرام ہے جس میں 40 ممالک کے 130 سے زیادہ فنکاروں کے ممتاز فن پاروں کی نمائش کے لیے منعقد کیا جائے گا۔ اس میں 34 فی صد روشنی کے فن پارے سعودی آرٹسٹوں کے تیار کردہ ہوں گے۔

’نور الریاض‘ فن پاروں کا ایک بہترین مجموعہ پیش کرے گا جس میں 90 فن پارے شامل ہیں جو آنے والے جشن میں پہلی بار دکھائے جائیں گے۔ ان کی جھلکیوں میں ایمبیسی کالونی میں "دی گارڈن آف لائٹ" کے عنوان سے ایک ویڈیو پروجیکشن بھی شامل ہے، جسے چارلس سینڈیسن نے بنایا ہے۔

آرٹسٹ ڈین روزگارڈ "واٹر لائٹ" کے عنوان سے ایک لیزر انسٹالیشن بھی پیش کریں گے جوایک شاندار منظر پینٹ کرتے ہوئے پانی کی طاقت اور اس کے معنی کو روشنی کے آرٹ سے مجسم کریں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے سلام پارک میں خصوصی لائٹ شو کا انعقاد کیا گیا ہے۔

سعودی مصور اسعد بدوی کافد میں "دی سن اٹینڈ دی کانفرنس آف لائٹ" کے عنوان سے ایک کام پیش کر رہے ہیں، جس میں وہ چمکدار رنگوں کی شکلیں بنانے کے لیے شیشے کے ریشوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کام زمین کو ایک نیلے میلان والے گنبد کے طور پر اور سورج کو ایک روشن پیلے رنگ کی گیند کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ یہ کام سورج کے سفر کے ساتھ ساتھ اس کے ظاہری اور حقیقی مقامات کا ایک جامد نقالی نقشہ بناتا ہے۔

رٹسٹ دانیہ صالح نے عود اسکویر کے علاقے میں "محبت کی کہانیاں" کے عنوان سے ایک کام تیار کیا ہے جس میں اس نے آواز اور لائٹ شو کو ملایا،۔

کنگڈم ٹاور، الفیصلیہ ٹاور اور المجدول ٹاور کے درمیان ایک پل بنانے کے لیے دارالحکومت ریاض کے وسط میں "پلس آف لائٹ" شو بھی منعقد کیا جائے گا۔ مارٹن ارناؤڈ اور جان کرسلے کے ڈیزائن کردہ اس شو میں گریمی ایوارڈ یافتہ آرٹسٹ زیڈ کے ساتھ ہوں گے۔

عوام کو مارک برک مین کے بنائے ہوئے کنگ عبداللہ پارک میں ڈرون شو میں شرکت کا موقع بھی ملے گا، جس کے پہلے حصے کا عنوان "آرگنائزنگ کیوس: آرڈرڈ کیوس" ہے جس میں 2000 ڈرونز کا مجموعہ شامل ہے۔ دوسرا حصہ ’’کیلیڈوسکوپ‘‘ کے عنوان سے ہے۔

ان تمام آرٹس ورکس کی میزبانی کرنے والی سائٹس میں داخلہ مفت ہوگا۔ کچھ سائٹس پہلے سے بک ہوچکی ہیں جبکہ زائرین کو جشن کے موقع پر منعقد ہونے والی کچھ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے برائے نام رقم کے ٹکٹ خریدنا ہوں گے۔ ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا چوتھائی حصہ خیراتی اداروں کودیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں