مقتول اسرائیلی کی لاش وصول کرنے پراسرائیل نے سکون کا سانس لیا، دھماکوں کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

24 گھنٹوں کے دوران میراتھن رابطوں کے بعد فلسطینی کوششوں نےغرب اردن میں ہلاک ہونے والے ایک اسرائیلی نوجوان 18 سالہ تیران فرو کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی گئی ہے۔ فرو کی لاش اسلامی جہاد کے عسکریت پسندوں نے جنین کے سینا اسپتال سے اغوا کرنے کے بعد اسے قبضے میں لے لیا تھا۔

سنہ 1948 کے عرب علاقوں سے تعلق رکھنے والے فلسطینی رہ نماؤں اور کنیسٹ کے ارکان نے لاش کی بازیابی کے لیے مذاکرات میں حصہ لیا۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی اور یورپی سفارت کاروں اور عرب ممالک نے فریقین کے درمیان ثالثی کی اور فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالا کہ وہ غیر مشروط طور پر لاش کواسرائیل کو منتقل کرنے کے لیے کام کرے۔ تاہم فلسطینی اغوا کاروں نے اسرائیلی کی لاش واپس کرنے سے انکار کردیا اور اپنے گیارہ مقتولین کی لاشوں کی حوالگی کی شرط رکھی۔

اسرائیلی سکیورٹی سروسز کے اہلکاروں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس کے اغوا کاروں کے دباؤ میں لاش کو برآمد کرنے میں جلدی نہیں کر رہے ہیں۔ بات چیت ایک مردہ لاش کے بارے میں ہو رہی ہے نہ کہ کسی زندہ اسرائیلی کے بارے میں۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دباؤ، 48 فلسطینی رہ نماؤں کے مطالبات، حماس کی طرف سے مداخلت اور لبنان تک اسلامی جہاد کی قیادت پر دباؤ کے بعد جمعرات کی صبح مقتول کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کردی گئی۔

سنہ 48ء کے فلسطینیوں کے لیے فالو اپ کمیٹی کے سربراہ محمد برکہ نے "انڈیپینڈنٹ عربیہ" کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان کی لاش کو برآمد کرنے کے لیے کوششیں نہیں رکیں۔ یہ ہمارے لوگوں میں سے ایک ہے۔ گرین لائن کے اندر سے ہزاروں فلسطینیوں کی طرح جینین پہنچا جو مختلف ضروریات کو پورا کرنے کے لیے داخل ہوتے ہیں۔ نوجوان تیران فرو اپنی گاڑی کی مرمت کے لیے آیا تھا۔ اس کی بدقسمتی تھی کہ وہ ایک خوفناک سڑک حادثے کا شکار ہو گیا اور اس کی حالت سنگین ہونے کی وجہ سے اسے علاج کے لیے جینن کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا اغوا ناقابل قبول ہے کیونکہ وہ ہمارے لوگوں میں سے ایک ہے اور اسپتال سے اس کے اغوا کا کوئی انسانی، قومی یا مذہبی جواز نہیں ہے۔ برکہ نے زور دے کر کہا کہ "اگر لاش کو سوگوار خاندان کو واپس کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہوتیں۔

حماس اور بیرون ملک جہاد

اس واقعے کے بارے میں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ حماس اور اسلامی جہاد کی بیرون ملک مداخلت نے اس بحران کو حل کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ جنین میں لاش کے اغوا کاروں کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے، جنہوں نے ابتداء میں اسے آزاد کرنے کے مطالبے کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ اسرائیل میں فلسطینی شہداء کی لاشوں کی بازیابی کے لیے کئی تحریکیں چلیں، جن میں گرین لائن کے دونوں جانب مظاہرے بھی شامل ہیں، جنہوں نے ان کے مسترد شدہ موقف کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جنین میں فلسطینی سوگوار خاندانوں کی قیادت میں باہر نکلے جن کی لاشیں اسرائیل نے روک رکھی ہیں۔انہوں نے اسرائیلی کی لاش کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ نوجوان تیران فرو کی لاش واپس کریں، اسی دباؤ کے ساتھ ان کے بچوں کی لاشیں برآمد کی جائیں جو اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مارے گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی مائیں، باپ اور خاندان ہیں جو اپنے بچوں کو الوداع کرنے اور ان کی لاشوں کو دفن کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

گرین لائن کے دوسری طرف دروز کا ایک گروپ جو اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے اور اس کی لاش کو واپس لینے کے لیے مسلح جینن میں داخل ہونے کی دھمکی کے ساتھ نکلا۔ انہوں نے ایک ویڈیو ٹیپ جاری کی جسے اسرائیلی ٹیلی ویژن چینلز نے نشر کیا۔

ان نقاب پوش عناصر اپنے ہتھیاروں کو نشان زد کیا اور دھمکی دی کہ اگر فرو کی لاش جمعرات کی صبح تک واپس نہیں کی گئی تو ہم جینن میں داخل ہو جائیں گے اور خود لاش واپس کر دیں گے۔

تیران فرو کی لاش برآمد ہونے کے بعد اسرائیلیوں نے سکون کا سانس لیا، حالانکہ انہوں نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی، نہ صرف اس لیے کہ فرو 1948 کے فلسطینیوں سے تھا، بلکہ اس لیے کہ بحث ایک لاش کے بارے میں تھی، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا تھا۔

اس وقت اسرائیلی فوج کی توجہ دو روز قبل بیت المقدس میں ہونے والے دو بم دھمکاموں کی تحقیقات پر ہے۔

اسرائیلی سیکورٹی حکام نے اعلان کیا کہ وہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کرسکا ہے کہ دھماکہ خیز آلات اور دونوں بم کس نےنصب کئے۔ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ سرویلنس کیمروں کی ناکامی کی وجہ سے یہ کام پیچیدہ ہے۔

چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی، جو امریکہ کے سرکاری دورے پر تھے، نے ٹیلی فون پر صورتحال کا جائزہ لینے اور پیش رفت سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد اپنا دورہ مختصر کرنے کا فیصلہ کیا۔

صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے سکیورٹی سروسز نے یروشلم شہر اور اس کے آس پاس کے دیگر علاقوں اور اسرائیلی قصبوں کو ہائی الرٹ کررکھا ہےاور مختلف سکیورٹی سروسز کے تعاون سے ان تمام علاقوں میں کومبنگ آپریشنز تیز کر دیے گئے جہاں سے اسرائیل دونوں دھماکوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کی توقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں