’’الحداء‘‘:بدوؤں کا اونٹوں کیلئے ابدی ترانہ جسے سعودیہ نے یونیسکو میں رجسٹرڈ کرا دیا

اونٹ اپنے چرواہے کی آواز کو پہچاننے، اس کے لہجے کو دوسروں سے ممتاز کرنے، اس کے حکموں کی تعمیل کرنے اور مطلوب چیز کو سمجھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اس وقت جب نزار بن نضر اپنے اونٹ سے گرے تو انہوں نے "وايداه.. وايداه" کہا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے اونٹوں کو اپنی طرف بڑھتے پایا۔ یہ تاریخ میں وہ پہلی پکار تھی جس کے متعلق معلوم ہوا کہ یہ اونٹوں کو بلانے کی پکار ہے۔ نزار بن نضر کے ان الفاظ سے اتفاقا ’’ریگستان کے جہاز‘‘ کا ترانہ دریافت کرلیا گیا۔ یاد رہے نزار بن نضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتویں دادا ہیں۔

اونٹوں کو بلانے کی اس پکار کو سعودی عرب اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے "یونیسکو" کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں درج کرانے میں کامیاب ہوا، یہ وہ ابدی ترانہ ہے جو صحرائی بدو کی اپنے ارد گرد اونٹوں کو جمع کرنے کی تسبیح بن چکا ہے۔

چونکہ عرب اپنی فطرت میں مشاہدے میں تیز اور محتاط ہیں اور اس کی سماعت فطرت کے سُروں کو بھی سمجھتی ہے۔ تو انہیں الفاظ کو بحر الرجز میں تبدیل کردیا گیا۔ عرب کے معروف نحوی نے اس شاعرانہ بحر کو پیش کیا تھا۔ یہ بحر بیمار ہونے پر اونٹ کے اٹھنے سے پیدا ہونے والی تھرتھراہٹ سے اخذ کی گئی ہے۔

شعرو شاعری کی اصطلاح میں رجز بحر مفرد ہے۔ یہ بحر ’’ مستفعلن مستفعلن مستفعلن ‘‘ ہے۔ اس بحر کو کوئی فنون جیسے الحداء، سامری، عرضہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ترانے کے تحت اونٹ اپنے چرواہے کی آواز کو پہچانتے ہیں اور اس کے لہجے کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں، اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے ترانے سے اس کا مالک اس سے کیا چاہتا ہے۔ اونٹ اور حُدی خواں کے درمیان ایک گہرا رشتہ قائم ہوجاتا ہے جو انہیں آپس میں باندھے رکھتاہے۔ اونٹ اپنے حدی خواں کے کہنے پر اس کی جانب دوڑتا ہے، رکتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب مالک اسے پانی دینا چاہتا ہے۔

چرواہا اپنے ساتھی اونٹوں کیلئے "داه داه" یا "دهده دهده" کے الفاظ گاتا ہے، یہ اونٹ اس کی دوستی میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ یہ وہ دھن ہوتی ہے جو اونٹوں کے کانوں کو بھلی لگتی ہے اور وہ اپنے چرواہے پاس اکھٹے ہوجاتے ہیں۔

اونٹ جب ’’ھوبال‘‘ کے عمل سے مانوس ہو جاتا ہے تو اس کا مالک ’’عوبال‘‘ یا ’’ اوبال‘‘ کا عمل شروع کرتا ہے جس سے اونٹ کی خوشی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس سے اونٹ تیاری کرنے اور پانی اور اپنے قرب والوں کے پاس جانے کا پیغام سمجھ جاتے ہیں۔ چرواہا بھی اونٹوں کو پانی پلاتے وقت یہ نعرہ گنگناتا ہے۔ "قليبي مع رحيل اليوم.. يا ويلي حالوا بيني وبينه قوم"۔ میرا دل دن کے جانے کے ساتھ ہے۔ یعنی "میرا دل دن کے جانے کے ساتھ ہے۔ افسوس میرے اور اس کے درمیان قوم حائل ہوگئی‘‘

جہاں تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرواہے عبداللہ ذو النجادین کا تعلق ہے وہ کہتے تھے۔ "تعرضی مدارجاً وسومی.. تعرض الجوزاء للنجوم.. هذا أبو القاسم فاستقيمی". یعنی ’’اپنے راستے اور سموں کو کھول دے، ستاروں پر کمند ڈال دے، یہ ابو القاسم ہیں پس سیدھی ہوجا۔‘‘

اونٹوں کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ گانے کے مطابق ڈھل جاتے ہیں اور اس سے تسلی حاصل کرتے ہیں، گانے سے انہیں خوش کن خیالات آتے ہیں۔ مالک اونٹ کے قدموں سے ہی تجارت کرتا ہے۔ اونٹوں سے متعلق مشہور کہاوت ہے کہ "يقطعك ذودٍ ما يطرّب صاحبه" یعنی ایسے اونٹ کی ضرورت نہیں جو اپنے چرواہے سے خوش یا پرجوش نہ ہو۔ اس ثقافت کو سعودی ثقافت کا ایک عنصر سمجھا جاتا ہے جو وہ ثقافت ہے نسلوں کو اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں