داعش سربراہ کی ہلاکت کی ذمہ داری بشار حکومت کی فوج نے اپنے سر لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں داعش کے سربراہ ابوالحسن الہاشمی القریشی کو ہلاک کرنے کا کریڈٹ شامی فوج نے لینے کی کوشش کی ہے۔ داعش سربراہ کو ایک شام کے جنوبی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔ تاہم یہ خبر جمعہ کے روز سامنے آئی ہے۔

داعش سربراہ کو دیرہ کے علاقے میں آپریشن میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج کے علاوہ دوسرے لڑائی کرنے والے گروپوں کے مطابق شام کا یہ جنوبی علاقہ وہ حصہ ہے جہاں 2011 میں شامی بہاریہ کا آغاز کیا ہوا تھا۔

اب یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکی فوج اور شامی حکومت یا داعش کے خلاف لڑنے والے امریکی حمایت یافتہ کوئی گروپ داعش سربراہ کے قتل میں ملوث نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے یہاں شام میں کئی دھڑے موجود ہیں جن میں سے بعض امریکی حمایت سمجھے جاتے ہیں۔ دیرہ کا علاقہ 2018 میں واپس شام کی بشارالاسد حکومت کے کنٹرول میں چلا گیا تھا۔ یہ واقعہ روس کی طرف سے درمیان میں آکر معاملات طے کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کے بعد ہوا تھا۔

جس کے نتیجے یں اپوزیشن کے کئی گروپوں نے ہتھیار چھوڑ کر بشار حکومت کے حوالے کر دیے تھے۔ انہی جنگجووں میں سے بعض نے ماہ اکتوبر میں داعش کے سربراہ ابوالہاشمی القریشی کے گھر کے گرد گھیرا ڈال لیا ۔

داعشی سربراہ جاسم ٹاون میں ایک گھر کو اپنا ہائیڈ آوٹ بنا رکھا تھا۔ اس محاصرے اور تصادم میں شریک ہونے والے سابق جنگجو تھے، یہ بات ان جنگجووں میں سے مارے جانے والوں کے رشتہ داروں مقامی رہائشیوں نے بتائی ہے۔ لیکن جمعہ کے روز شامی صوبہ دیرہ میں شامی فوج کے ذرائع نے کہا ہے کہ اس آپریشن میں شامی فوج براہ راست ملوث تھی۔ شامی فوج کے ساتھ مقامی غیر فوجی گروپ بھی شریک تھے۔

واضح رہے امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری افواج اور ایک امریکی حامی اتحاد داعش کے خلاف شمالی شام میں داعش کے خلاف لڑتا رہا ہے۔ لیکن اب داعش کے سربراہ کی ہلاکت کے تازہ واقعے کے حوالے سے پینٹاگون نے بھی اپنے بے تعلق ہونے کی اطلاع دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں