امریکی خاتون اہلکارکوداعش میں بھرتی کرنے کی پیش کش کرنے والےشدت پسندکے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا میں مین ہٹن سپریم کورٹ نے شدت پسند عبداللہ فیصل کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کی ہے۔عبداللہ فیصل نے نیویارک پولیس کی ایک خاتون کو داعش کے مفاد میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے بھرتی کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی تھی۔

پیر کو عدالت میں ابتدائی بیانات کے دوران استغاثہ نے 59 سالہ فیصل کو داعش میں بھرتی اور "شادی کا دلال" قرار دیا جس نے دہشت گردی کے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

چیٹ اور ای میلز

عبداللہ فیصل پر یہ بھی الزام تھا کہ اس نے 2015ء سے 2017ء کے دوران ایک خفیہ پولیس خاتون سے ای میل اور ویڈیو چیٹ کے ذریعے بات چیت کی تاکہ اسے داعش میں شامل ہونے اور بیرون ملک حملے کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

"نیویارک پوسٹ" ویب سائٹ کے مطابق اس کے علاوہ اس نے اس خاتون کو جو کہ "جہادی" ہونے کا ڈرامہ کر رہی تھی دہشت گرد گروپ کے اندر ایک موزوں شوہر سے متعارف کرانے کی پیشکش کی۔

اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی گیری گیلپرین نے ججوں کو جو کچھ بتایا اس کے مطابق مدعا علیہ نے داعش کے ساتھ ایک مربوط تعلق قائم کر رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نے "داعش کے لیے کام کیا، مدد کی اور اس کا مشن دہشت گردی تھا۔"

انتہا پسندانہ لٹریچر

استغاثہ نے وضاحت کی کہ جمیکا میں پیدا ہونے والے عسکریت پسند ٹریور ولیم فورسٹ نے انٹرنیٹ پر کئی پوسٹس شائع کیں جو اس کی انتہا پسندی کی نشاندہی کرتی تھیں۔انہوں نے اسامہ بن لادن کے ایک خط کا حوالہ دیا جو فیصل نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا تھا۔

استغاثہ نے یہ بھی کہا کہ فیصل نے اپنے پیروکاروں کی حوصلہ افزائی کی اورانٹرنیٹ پراپنے خطبوں میں انہیں امریکیوں کو مارنےپر اکسایا۔ وہ اکثراپنئ انٹرنیٹ تقریروں میں "تمہیں کافروں کے گلے چھریوں سے کاٹنا چاہیے۔" جیسے الفاظ بولتا تھا۔

نفرت پھیلانے کا الزام

قابل ذکر ہے کہ فیصل جس نے 2003 میں برطانیہ میں نسلی منافرت کو ہوا دینے کا جرم ثابت ہونے کے بعد چار سال جیل میں گزارے تھے کو 2017 میں اس کے آبائی علاقے جمیکا سے گرفتار کر کے نیویارک کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

جب کہ اس نے دہشت گردی کی کارروائیوں پر اکسانے یا مدد فراہم کرنے سمیت پانچ الزامات میں قصوروار نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

نئے الزامات میں سات سے 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ توقع ہے کہ مقدمے کی سماعت جنوری 2023 کے وسط تک جاری رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں