العربیہ خصوصی رپورٹ

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ’’العربیہ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو کا مکمل متن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
26 منٹ read

فلسطنی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کے خلاف ہیں لیکن کسی بھی وقت اپنا ذہن تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رکنیت جن شرائط اور وعدوں کی بنیاد پر حاصل کی تھی ان میں سے ایک بھی وعدہ یا شرط اس نے پوری نہیں کی ہے۔

امریکہ اس سلسلے میں اسرائیلی سرپرستی کرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اقوام متحدہ میں قرار داد نمبر 181 اور قرار داد نمبر 194 کے تحت اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے اور اس کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نارملائزیشن کا حامی ہوں لیکن یہ سب سے پہلے فلسطین کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جیسا عرب دنیا نے بھی طے کیا تھا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ کئی ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ ناملائزیشن میری ملاقاتوں کی وجہ سے کی ہے۔ صدر محمود عباس نے ان خیالات کا اظہار' العربیہ ' کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ جس کا مکمل متن سوالا جواباً دیا جا رہا ہے۔

العربیہ:

جناب صدر خوش آمدید ! اجازت دیجیے کہ انٹرویو کا آغاز آپ کی اقوام متحدہ میں کی گئی حالیہ تقریر سے کیا جائے، جس میں آپ کا لہجہ قدرے سخت تھا۔ آپ نے چند نکات اٹھائے ، ان نکات میں سے ایک 1993 کے اوسلو معاہدے سے متعلق تھا۔ جس کے بارے میں آپ نے کہا ' اب یہ قابل عمل نہیں رہا ' کیا اوسلو معاہدہ ازکار رفتہ ہو چکا ہے؟

محمود عباس :

ہمارے لیے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کیے تمام معاہدے اپنی جگہ موجود ہیں۔ نیز یہ کہ ہم فلسطینی ان معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور نہ ہی انہیں ناکارہ سمجھ یا کہہ سکتے ہیں لیکن جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے وہ پچھلے چھ سات برسوں کے دوران اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ ان معاہدوں کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ معاہدوں سے متعلق ہر اس چیز کو کمزور اور رد کر رہا ہے۔ اس لیے اسرائیل ہر اس چیز کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو ان معاہدوں میں بیان اور طے کی گئی ہے۔ فطری سی بات ہے کہ اس صورت حال میں ہم متحمل نہیں ہو سکتے کہ ہم ان معاہدوں پر عمل کرنا جاری رکھ سکیں یا ان پر قائم رہ سکیں۔ لہٰذا کسی بھی وقت ہم خود کو ان تمام تر معاہدوں سے الگ کر سکتے ہیں۔'

العربیہ:

آپ نے اپنی تقریر میں فلسطین کی تقسیم سے متعلق یو این او کی قرار داد نمبر 181 کا حوالہ دیا تھا، مطلب تھا کہ آپ عکا اور ناصرہ تک واپس جا سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ نے قرار داد نمبر 194 کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کا نفاذ کیا جائے بصورت دیگر اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت ختم کی جائے۔ یہ اوسلو معاہدے کے کی جگہ ایک نئی چیز نہیں ہو جائے گی؟

محمود عباس :

'قراردادیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل نے منظور کی تھیں جو مجھے اس مطالبے کی طرف واپس لا رہی ہیں۔ کہ میں اقوام متحدہ سے ان پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کروں۔ ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ فلسطین کاز کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اب تک 754 قراردادیں منظور کی ہیں مگر ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطین کاز کے بارے میں 94 قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں، ان میں سے بھی فلسطین کے حق میں کسی پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ یہی حال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی منظور کر دہ قرار دادوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس لیے میں نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران قرا داد نمبر 181 اور قراداد نمبر 194 کا انتخاب کیا کہ میں ان کا حوالہ دوں۔ جب ہم قراداد نمبر 181 ذکر کرتے ہیں تو کہ یہ فلسطین کی تقسیم سے متعلق ہے تو مراد یہ ہوتی ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس میں ایک اہم نکتہ ہے۔

جب اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے درخواست کی تو اس کے لیے شرط رکھی گئی کہ وہ قرار داد نمبر 181 اور 194 پر عمل کرنا قبول کرے، بصورت دیگر ممبر شپ نہیں لے سکے گا۔ اس وقت اسرائیل کی طرف سے موشے شیرٹ نے بطور وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ساتھ یہ تحریری وعدہ کیا تھا کہ اسرائیل ان قرار دادوں پر عمل کرے گا۔ مگر اسرائیل کی طرف سے ان قرار دادوں پر آج تک عمل نہیں کیا گیا۔ میں نے انہی قرار دادوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ '

العربیہ :

کیا آپ کے اس مطالبے کو اقوام متحدہ سے باضابطہ درخواست کہا جائے گا؟

محمود عباس :

'میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے ایک باضابطہ درخواست دائر کی ہے تاکہ مذکورہ بالا دونوں قرار دادوں پر عمل کا معاملہ ان کے ایجنڈے کے ذریعے اٹھایا جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ ان قرار دادوں کے حوالے سے نافذ کریں، پناہ گزینوں کے حقوق کے حوالے سے نافذ کریں اور اقوام متحدہ کی اسرائیلی ممبر شپ کے حوالے سے نافذ کریں۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی ان دونوں قرار دادوں کی رو سے اسرائیل کی شروع دن سے اقوام متحدہ حقیقی ہے نہ قانونی ہے۔ اسرائیل نے ان قرار دادوں پر آج تک عمل نہیں کیا ہے۔'

العربیہ:

جناب صدر جب آپ نے اقوام متحدہ کے سامنے یہ درخواست رکھی ہے تو یہ اس لیے رکھی کہ آپ اسے اس اہم اور حساس مرحلے ایک کارڈ کے طور پر کھیل سکیں گے یا اس کے لیے حقیتاً بھی کوئی ایسا میکانزم موجود ہے کہ آپ اس سلسلے میں کامیابی کی امید کرتے ہوں۔ آپ کتنے پر امید ہیں؟

محمود عباس:

'میری اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردہ اس درخواست کی بنیاد یہ ہے کہ ان قرار دادوں پر عمل کرایا جائے۔ اس کے لیے سیکرٹری جنرل اپنے فرائض کی انجام دہی جنرل اسمبلی میں کرے گا۔ ہماری طرف سے ہم جنرل اسمبلی سے ایک درخواست کریں گے کہ وہ ان قرار دادوں پر عمل کرائے۔ میرا مطلب ہے کہ ہم سارا معاملہ سیکرٹری جنرل پر ہی نہیں چھوڑ دیں گے۔ ہم ایک مبصر رکن کے طور پر یہ حق رکھتے ہیں کہ ہم قرار دادوں پر عمل کے لیے درخواست کر سکیں ، اس لیے انہیں خالی خولی لفظ نہ سمجھا جائے، ہمارا سنجیدہ مطالبہ ہے کہ قرار دادوں پر عمل کیا جائے۔'

العربیہ :

آپ اس بارے میں خوش امید ہیں؟

محمود عباس:

'کیوں نہیں۔ ہمارے پر امید ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے ہمارے ساتھ 74 سال تک غلط کیا ہے وہ اب ہمارے ساتھ اچھا نہیں کریں گے۔ ایک جو میں کسی تکلف کے بغیر کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان قرار دادوں پر عمل کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ خصوصاً جو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے منظور کی ہیں۔ وہ رکاوٹ امریکہ ہے۔ امریکہ اسرائیل کا بڑا مددگار ہے، وہ نہ صرف اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہ کرنے میں اسرائیلی مددگار کے طور پر ساتھ کھڑا ہے بلکہ میں کہوں گا یہ امریکہ ہی جو اسرائیلی انکار کی وجہ ہے۔

میں امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں سے نہ صرف یہ کہ مطالبہ کروں گا کہ ان قرادادوں پر عمل کرائیں بلکہ میں ان پر اس سلسلے میں دباؤ ڈالوں گا۔ میری امریکیوں جب بھی ملاقات ہوتی ہے ہم اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب اسرائیل کے بارے میں امریکی موقف بدلے گا۔ ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔‘

العربیہ:

او کے، آپ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا یہ پہلے پارٹنر تھا اب قابض طاقت کی طرح سلوک کرتا ہے، ہم نے آپ کی تقریر سے یہ سمجھا ہے، ہمیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں تو بتائیں؟

محمود عباس:

اس کا اندزہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ ہم نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے ایک درخواست پیش کی ہے۔ اس میں عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی نوعیت کو واضح کرے، ہم فلسطینی اس کے مقبوضہ ہیں، اس کی ایک نو آبادی ہیں؟ اس ناطے اسرائیل کی حیثیت ہمارے لیے ایک نو آبادیاتی قابض کی ہے۔ یا اس کی حیثیت رنگ برنگی ہے۔

یہ معاملہ اب محض دنوں کی دوری پر ہے۔ اس بارے میں ووٹنگ ہونے والی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں بین الاقوامی عدالت انصاف سے کم ازکم ایک واضح 'رولنگ' ضرور مل جائے گی۔ اگرچہ ہم یہ حقیقت جانتے ہیں کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کی اس بارے میں رولنگ محض مشورے کی سی ہو گی اور اس پر عمل کی پابندی نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ بہت سے ملک اس عدالتی رولنگ کا اثر اپنے اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف اور رویے کی شکل میں دکھا سکیں گے۔

یہ وہ چیز ہے جس کا مجھے خیال ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کی رائے عالمی رائے عامہ کو بدلنے میں کردار ادا کر سکے گی۔ میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ فلسطینیوں کے لیے کونسا بیانیہ وجود رکھتا ہے۔ اس وقت اسرائیل کے حوالے سے عالمی سطح پر صہیونی بیانیہ غالب ہے۔ ہم وہ سب کچھ کرنے کی کوشش میں ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ ہم لوگوں کو اپنے موقف کی طرف لانے کی کوشش میں ہیں، تحقیق وتاریخ کی بنیاد پر ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ ہر ایک سے بات کر رہے ہیں۔

چیزیں آگے کی طرف چلنے کی طرف ہیں۔ خصوصاً امریکی معاشرے میں چیزیں آگے بڑھنا شروع ہو رہی ہیں۔ بہت مثبت تبدیلیاں امریکہ میں آرہی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بہت بڑی تبدیلی یا کوئی بہت بڑا انقلاب امریکی معاشرے میں رونما ہو چکا، نہیں ایسا نہیں، لیکن تبدیلی کآ آغاز ہو چکا ہے۔ اب وہاں فلسطین کاز سے متعلق بات سنی جا رہی ہے۔ سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم فلسطینیوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، ہمیں دبایا جا رہا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ فلسطینیوں نے فلسطین شوق سے نہیں چھوڑا تھا۔ ہمارا قتل عام کیا گیا تھا۔ ہمارے 500 دیہاتوں کو مکمل صاف کر دیا گیا تھا۔ ہمیں ان دیہات سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک اہم چیز ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے حقائق بھی ہیں جن کے تحت ہماری صہیونیوں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے۔

ہاں جب میں صہیونی بیانیے کی بات کرتا ہوں تو اس مراد مغربی صہیونی ہوتی ہے، کیونکہ صہیونیت صرف یہودیوں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں امریکی صہیونی بھی شامل ہیں ، برطانوی بھی اور دوسرے یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ میں نو آبادیاتی صہیونیت کی بات کر رہا ہوں ۔ اسی صہیونیت نے اسرائیل کی تخلیق کی ہے۔

العربیہ:

ایک سوال فلسطینی بیانیے کے حوالے سے یہ پوچھنا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ صہیونی بیانیہ اس لیے غالب ہے کہ فلسطینی بیانیہ کی کمزوریاں فلسطینیوں کی وجہ سے ہیں۔ فلسطینیوں کے ساتھ ایسا غلط ہماری اپنی وجہ سے کہاں ہو رہا ہے؟

محمود عباس:

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سائیڈ لائنڈ کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں یہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ جب 1900 میں تھیوڈ ہرٹزل فلسطین آیا تھا تو فلسطین کو خالی نہیں دیکھا تھا، آپ کو یاد ہے اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا تھا ' ہمیں فلسطین سے فلسطینیوں کا نکالنا ہو گا۔ ہمیں ایسے فلسطین کی ضرورت ہے جو فلسطیینیوں سے پاک ہو۔' اس کے بعد پی ایل او کا قیام عمل میں آیا تھا۔ پی ایل اور فلسطینیوں کی نمائندہ کے طور پر ابھری۔ لیکن ہمیں بین الاقوامی طور پر 1988 میں اس وقت تسلیم کیا گیا۔ جب ہم نے سخت زبان میں بات کی۔ اس سے پہلے تو کئی ہمیں جانتا بھی نہیں تھا۔ لوگ صرف اسرائیل کو جانتے تھے۔ جب دنیا کے لوگوں سے بات کرتے ھے تو ہ کہتے تھے یہ فلسطینی کہاں ہوتے ہیں، یہ کہاں کے رہنے والے ہیں؟ ہم صرف اسرائیل کو جانتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ آپ کو فلسطینیوں کا بیانیہ غیر موجود لگتا ہے۔ اسی نے ہمیں تحرک دیا کہ ہم اپنی طاقت کے مطابق فلسطین کے لیے سب کچھ کریں۔ تاکہ مغربی ملکوں اور ان کے عوام کے سامنے فلسطینی بیانیہ بھی آ سکے۔

العربیہ:

آپ کی تقریر کے بارے میں آخری سوال یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا 'میں بولوں گا بے شک امریکی مجھے قتل کر دیں۔' کیا آپ کو اپنی زندگی خطرے میں لگتی ہے، آپ اس بارے میں خوفزدہ ہیں؟

محمود عباس:

مجھے خوف اپنی جان کی وجہ سے نہیں ہے۔ سب سے پہلے یہ واضح کر دوں زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے، مجھے کسی بھی وقت مارا جا سکتا ہے۔ جب میں فلسطین میں مارا جاؤں گا، یہ قتل اسرائیلیوں کی طرف سے ہوا تو بھی اور کسی اور کی طرف سے ہوا میری جگہ کوئی دوسرا آگے آ جائے گا۔ اس لیے یہ بات اہم نہیں کہ میں مارا جاؤں گا۔ اہم بات یہ ہے کہ فلسطین ہے، فلسطین کی ایک تاریخ ہے۔ جس کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ ایسی زمین چاہیے جس پر فلسطینی موجود نہ ہوں۔ ہم ستر لاکھ فلسطینی ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے ہم نے فلسطینیوں کا صفایا کرنا ہے۔ اب فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی خود تسلیم کرتے ہیں فلسطینی ان سے زیادہ ہیں۔

العربیہ:

جناب صدر آپ نے اپنے انٹرویو کے شروع میں کہا 'اہم نے جن معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ہم ان کے پابند ہیں۔ لیکن ایک سے زائد بار آپ نے اسرائیل سے سلامتی سے متعلق امور میں تعاون روک دیں اور اپنی فلسطینی اتھارٹی کو ختم کر دیں گے، کیوں؟

محمود عباس:

ہم اپنی فلسطینی اتھارٹی کو توڑیں گے؟ بالکل نہیں۔ ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ختم کر دیں۔ ہم نے یہ اتھارٹی بنائی ہے، ہم نے اس کے لیے جدوجہد کی ہے، اس کے لیے شہیدوں کا لہو دیا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی اتھارٹی اسے ختم کرنا چاہے لیکن پی اے سی باقی رہے گی۔

العربیہ:

تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فلسطینی اتھارٹی کو توڑنے کی آپشن کبھی اپنی میز پر نہیں رکھی ہے؟

محمود عباس:

کبھی نہیں، ان کے اپنے درمیان معاہدوں میں یہ بہت اہم ہے۔ اوسلو معاہدہ اگر ہم اس ے الگ ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیلی نے ان تمام چیزوں ختم کر دیا ہے جو اس معاہدے میں لکھی تھیں۔

العربیہ:

اسی اوسلو معاہدے نے ہی تو فلسطینی اتھارٹی کو جنم دیا تھا؟

محمود عباس:

اگر معاہدے پر عمل نہیں کا جاتا، جیسا کہ نہیں کیا گیا۔ تو ہم فلسطینیوں عوام کی موجودگی کی تصدیق کے طور پر موجود رہیں گے۔ تاکہ ہم بالآخر ایک ایسی ریاست کو ممکن بنا سکیں جو قبضے سے پاک ہو۔ ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی تکلف آڑے نہیں کہ ہم فلسطین ایک مکمل ریاست ہیں صرف ایک جس سے نجا ضروری ہے وہ قبضہ ہے۔

العربیہ:

لیکن یہ اہم مسئلہ نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ آپشنز کیا ہیں؟

محمود عباس:

یہ نافذ نہی ہوا ۔ اس لیے ہمیں ضرور اپنی جدو جہد کو جاری رکھنا ہے کہ ہم نافذ کر سکیں۔ ہم اس کے لیے پہلے عالمی برادری کے ذریعے کوشش کر رہے ہین۔ جہاں تک عرب دنیا کا تعلق ہے وہ یقینی طور پر ہمارے ساتھ ہیں۔ لیکن میں بار کر رہاں باقی دنیا کی، ہمیں اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ن تک فلسطینی بیانیہ پہنچا سکیں اور انہیں قائل کر سکیں۔

العربیہ:

گویا آپ کا بھروسہ دنیا کی اقوام پر ہے، کسی ٹرمپ کارڈ پر بھروسہ نہیں ہے۔ آپ اسرائیلی اتھارٹی کے ساتھ سکیورٹی معاملات میں کوآرڈی نیشن کے حوالے سے ہے۔ چونکہ اس بارے میں بہت سی تنقید کی جاتی ہے؟

محمود عباس:

سکیورٹی کوآرڈی نیشن معاہدے کا حصہ تھا۔ اسے کچھ لوگوں نے فلسطینیوں کے خلاف رابطہ کاری قرار دیا۔ لیکن ہم اس سکیورٹی تعاون کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نظریے سے دیکھتے ہیں۔ شاید یہ کوئی نہیں جانتا کہ ہم نے دنیا کے 85 ملکوں کے ساتھ دہشت گردی کے معاہدات ہیں۔ ان میں امریکہ، کینیڈا ، برطانیہ، جاپان بھی شامل ہین۔ آج ہی ہم نے قبرص کے ساتھ بھی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم تشدد کے خلاف ہیں۔ یہ وجہ ہے جو مجھے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون پر ابھارتی ہے۔ ہم اس دہشت گردی کے بھی خلاف ہیں جو اسرائیل کی طرف سے کی جاتی ہے۔ اگر اسرائیل خلاف ورزیاں کرتا ہے تو کونسی چیز ہو گی جو مجھے تعاون پر راغب کر سکے گی؟

العربیہ:

جہاں تک اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی بات ہے کچھ اسے فلسطینیوں کے خلاف تعاون قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض مختلف رائے رکھتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ فلسطینی سانس ہی اس سکیورٹی تعاون کرنے کی وجہ سے لے سکتے ہیں۔؟

محمود عباس:

بالکل نہیں۔ ہم اس کے علاوہ بھی سانس لے سکتے ہیں، آپ اس بارے میں پریشان زندہ رہ سکتے ہیں۔ سکیورٹی تعاون ہی سانس لینے کا واحد راستہ نہیں ہے۔ آپ اس پر پریشان نہ ہوں۔ جب یہ معاہدہ اور سکیورٹی تعاون نہں تھا اس وقت بھی ہم سانس لیتے تھے۔ ہمارے لوگ یہیں ہیں اور وہ قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وہ اسرائیلی مسلح افواج کے خلاف لڑتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہین پر امن اور پاپولر مزاحمت خود ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ اب پاپولر مزاحمت پورے فلسطین میں پھیل چکی ہے اور اسرائیل بھی اسے حقیقت کی صورت میں دیکھ رہا ہے۔

العربیہ:

لیکن اس میں تو مسلح مزاحمت بھی ہے جو حال میں بڑے پیمانے پر پیدا ہوئی ہے۔ ان کے آپریشنز کی تعداد 2015 کے آپریشنز سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔؟

محمود عباس:

جی ہاں۔ آپریشن ہوتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ لوگ اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ جب تک وہ اس ظلم کے خلاف پھٹ نہیں جاتے وہ لڑتے ہیں۔ ہر روز فلسطینی نوجوان شہید ہو رہے ہیں۔

العربیہ :

آپ کا اصل نعرہ تو پر امن جدوجہد ہے؟

محمود عباس :

ہاں پر امن جدو جہد۔

العربیہ:

یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ آپ کے ساتھ اس بارے میں بات ہو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس سے آپ کو کم از کم بین الاقوامی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہو؟

محمود عباس:

میں ایک 'سیچوایشن ' کا ذکر کر رہا ہوں۔ لیکن جہاں تک میرے فوجی مزاحمت اختیار کرنے کا سوال ہے میں نے ابھی تک اختیار نہیں کی ہے۔

العربیہ :

ابھی تو اختیار نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کا ذہن بدل جائے؟

محمود عباس:

ہاں اس بارے میں میرا ذہن کسی بھی لمحے بدل سکتا ہے۔ ضرور بدل سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل یا پھر اس سے اگلے روز بدل جائے۔ ہر چیز تبدیل ہو سکتی ہے۔میں ان میں سے ایک ہوں جنہوں نے پرورش ہی فوجی مزاحمت کے ماحول پائی ہے۔ یہ 1988 تک جاری رہی۔ جب ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم بین الاقوامی فورم کا حصہ بنتے ہیں۔ یوں 1993 میں اوسلو معاہدہ ممکن ہوا۔ میں اب یہ انتباہ کر رہا ہو ں کہ جب عوام کو اس طرف دھکیل دیا جائے گا تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

العربیہ:

آپ کی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز اسرائیلیوں کو فلسطین میں داخل ہونے سے کیوں نہیں رو کتیں، جبکہ اسرائیل الخلیل میں ایسا کرتا ہے۔

محمود عباس :

اسرائیل وہ کرتا ہے جس کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ لیکن میں نہیں چاہتا ہے کہ معاملات تصادم کی طرف بڑھ جائیں۔

العربیہ :

نیتن یاہو آ رہا ہے ، آپ کیا توقع کرتے ہیں۔؟

محمود عباس:

وہ ایک حقیقت ہے۔ ہم اسے 27 سال سے بھگت رہے ہیں۔

العربیہ:

لیکن اس بار کی اسرائیلی حکومت مختلف ہو گی؟

محمود عباس:

میرے خیال تمام اسرائیلی حکومتیں ایک ہی طرح کی رہی ہیں۔ 1951 میں فلسطینیوں قتل عام کیا تھا۔ اب ایک یہودی نے فلم بنائی ہے جس میں 1948 کے حوالے سے فلسطینیوں کے قتل عام کی بات کی گئی ہے، اس پر اسرائیل شور کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک یہودی کی بنائی ہے۔

العربیہ:

جنہوں نے قتل عام کیا وہ خود ہی اعتراف کر رہے ہیں۔؟

محمود عباس:

وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ کس طرح گاؤں میں داخل ہوئے لوگوں کو اندھا دھند قتل کرنا شروع کر دیا۔ آج بھی صورت حال تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

العربیہ:

اس ماحول میں آپ یاہو اور بن گویر کے ساتھ کس طرح معاملات چلائیں گے؟

محمود عباس:

میں کوئی سمجھوتہ کیے بغیر ڈیل کروں گا۔ جب ملاقات ہو گی تو میں اسے بتاوں گا کہ کہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست چاہتا ہوں۔ 1967 کی سرحدوں کے ساتھ۔

العربیہ:

لیکن یہ بات تو پہلے سے جانتا ہے؟

محمود عباس:

اگر وہ انکار کرے گا تو پھر ہم بھی اسے بتا سکیں گے۔ اس لیے مکالمہ ہو گا۔ یہ میرا فرض ہے کہ میں بات کروں۔ لیکن میں اپنے کسی حق سے دستبردار نہیں ہوں گا۔

العربیہ :

صفد تو کھو گیا تھا؟

محمود عباس :

ہم صفد کھو چکے ہیں۔ دوسرے بہت سے شہر بھی ان میں عکا اور حیفا بھی شامل ہیں۔ لیکن جیسے کہا جاتا ہے 'ہم نے کم کے لیے معاہدہ کیا اور وہ بھی نہ ملا ' ہم نے 1967 کی سرحدوں کے تحت جو قبول کیا یہ فلسطین کا صرف 22 فیصد ہے، مگر وہ بھی نہیں ملا۔ وہ اس سے بھی انکاری ہیں۔ حل یہ ہے کہ میں اپنا حق مانگ رہا ہوں۔ میں اپنے ملک کے لیے کھڑا ہوں۔

العربیہ:

جناب صدر نارملائزیشن کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس بارے میں فلسطینی اتھارٹی پر تنقید کی جاتی ہے؟

محمود عباس:

ہم عرب کانفرنس کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اللہ! شاہ عبداللہ مرحوم کی روح کو سکون عطا کرے۔ انہوں نے 2002 میں ایک امن 'انیشیٹو ' لیا تھا ۔ اسی کے تحت ہم نارملائیزیشن کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس نارملائزیشن کا آغاز فلسطین سے ہونا چاہیے۔

العربیہ:

وہ کہتے ہیں آپ کی وجہ سے مراکش اور ترکیہ اسرائیل نرم پڑے، آپ نے ان ملکوں کے دورے کیے تھے؟

محمود عباس:

یہ میرا سروکار نہیں ہے۔ کچھ ملکوں کے نارمل تعلقات رکھتے ہیں۔ میں اصولی طور پر اس نارملائزیشن کے خلاف ہوں۔ کیونکہ میں عرب سربراہ کانفرنس کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے کا مخالف ہوں۔ لیکن میں اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہوں؟

العربیہ:

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں فلسطینیوں نے تو پہلے سے ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارملائز کر رکھے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ملتے ہیں۔ جیسا کہ آپ بھی ملتے ہیں؟

محمود عباس:

میں اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن نہیں کی ہے۔ میں مقبوضہ ہوں۔ میری سرزمین پر قبضہ ہے۔

العربیہ:

آپ تو اسرائیلوں کے ساتھ سکیورٹی میٹنگز کرتے ہیں ان کے ساتھ سیاسی ملاقاتیں کرتے ہیں، اپ ان کی شادی غمی کے موقع پر پیغام بھیجتے ہیں؟

محمود عباس:

میں ان کےساتھ 2002 سے بات کر رہا ہوں۔ نہ بھولیں مصر اور اردن نے اوسلو معاہدے سے بھی پہلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نارمل کر لیا تھا۔ 2002 میں شاہ عبد اللہ نے ایک فارمولہ پیش کیا تھا اور تمام عربوں نے اس سے اتفاق کیا تھا۔ یہ ایک مشروط فارمولہ تھا۔ کہ پہلے فلسطینی ریاست بنے گی۔ اس کے بعد ہمیں اسرائیلی ریاست پر اعتراض نہیں ہو گا۔

العربیہ:

یہ سب ملکوں پر اطلاق ہو گا ؟

محمود عباس:

سب ملکوں پر اطلاق ہو تا ہے۔ لیکن ایک فرق ہے ان میں جو مخالفت کرتے ہیں اور جو معاہدے کر چکے ہیں۔ میں عرب ملکوں سے تعلقات نہیں توڑوں گا۔

العربیہ:

شامی حکومت اور حماس کے درمیان تعلقات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

محمود عباس:

میرا خیال ہے شام خود بھی جانتا ہے کہ اس کے اور حماس کے درمیان کیا ہوا تھا۔ لیکن ہم خود شام کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ ہمارے تعلقات میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہمارا شام میں سفارتخانہ ہے۔ ہمارے حکام شام جاتے ہیں۔

العربیہ:

اگلے پانچ سال میں آپ فلسطین کو کہاں دیکھتے ہیں؟

محمود عباس:

فلسطین کو میں اگلے پانچ برسوں میں ایک آزاد ریاست کے طور پر دیکھتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں