اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مسجدِاقصیٰ کی حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں:عہدہ دار
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو مسجدِالاقصیٰ کے احاطے میں ’’سختی سے جوں کی توں صورت حال کو برقرار رکھنے‘‘کے لیے پُرعزم ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفترکے ایک عہدہ دار نے منگل کے روزانتہائی دائیں بازوکے قوم پرست وزیر إيتماربن غفير کے مسجداقصیٰ کےاشتعال انگیزدورے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔ان کے اس دورے کی فلسطینیوں اور عرب ممالک نے مذمت کی ہے۔
عہدہ دار نے کہا کہ وزراء نے ماضی میں ’’اسٹیٹس کو‘‘کومدنظررکھتے ہوئے مسجد کے احاطے کا دورہ کیا تھا۔اس کے تحت مسلمانوں کواس مقدس مقام میں عبادت کرنے کی اجازت ہے مگردیگر مذاہب کے پیروکار اس کی صرف زیارت کرسکتے ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازوسے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیرإيتماربن غفير کی اشتعال انگیزدراندازی کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔اس کے بارے میں فلسطینی وزیراعظم محمداشتیہ نے کہا کہ یہ مسجداقصیٰ کو ’’یہودی معبد‘‘میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
مسجدِاقصیٰ مکہ مکرمہ میں مسجدِحرام اور مدینہ منورہ میں مسجدِنبوی ﷺ کے بعد اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور یہودیت کا سب سے مقدس مقام ہے۔اس کو یہودی عقیدے کی دو قدیم باقیات کا مرکز سمجھاجاتا ہے۔