اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روزاس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے زیرحراست ایک اسرائیلی شہری زندہ ہے۔ ایک روز قبل فلسطینی جماعت نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس شخص کو مدد کی اپیل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
حماس کی جاری کردہ اس فوٹیج میں اسرائیلی اویرا مینگسٹو کو دکھایا گیا تھا۔اس کے بارے میں اس کے خاندان کا کہنا تھا کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے۔اسے حماس نے 2014 میں غزہ میں داخل ہونے کے بعد سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’’کل ہمیں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اویرا زندہ ہے۔یہ ایک نوجوان ہے، جس کی صحت اچھی نہیں ہے اور اس کی قسمت کی ذمہ داری مکمل طور پر حماس پرعاید ہوتی ہے‘‘۔
ویڈیو میں مینگسٹو کو ایک خالی دیوار کے سامنے بیٹھےاسرائیل سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، یہ اس کی گرفتاری کے بعد دکھائی جانے والی پہلی تصویرتھی لیکن اسرائیل کی جانب سے فوری طور پراس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی کہ فوٹیج حقیقی ہے۔
تاہم اس کے بھائی ایلان کا کہنا ہے کہ گھر والوں کو پورا یقین ہے کہ فوٹیج میں اویرا ہی ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ ’’میری ماں کے آنسو نہیں رُک پارہے،انھوں نے ویڈیو کودیکھنا بند نہیں کیا ہے۔انھیں اپنے بیٹے کو گھر میں محفوظ اور صحت مند دیکھ کر بڑی خوشی ہوگی‘‘۔