مقبوضہ بیت المقدس (مشرقی یروشلم) میں ایک نوعمر فلسطینی حملہ آورنے ہفتے کے روز فائرنگ کر دی ہے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اس سے ایک روزپہلے ایک اور حملہ آور نے شہر میں ایک یہودی عبادت گاہ کے باہرسات افراد کو ہلاک کردیا تھا۔مقبوضہ شہر میں 2008ء کے بعد تشدد کا یہ ہولناک واقعہ تھا۔
طبّی عملہ کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم کے علاقے سِلوان میں فائرنگ کے نتیجے میں 47 اور 23 سال کی عمر کے باپ بیٹا زخمی ہوئے ہیں۔دونوں اسپتال میں مکمل طور پرہوش میں تھے اورانھیں معتدل سے سنگین زخم آئے تھے۔
اسرائیلی پولیس نے 13سالہ حملہ آورکو گولی مار کرزخمی کردیا اور پھر اس پرقابو پالیا تھا۔اس کو اسپتال لے جایا گیا لیکن اسرائیلی پولیس نے اس کی حالت کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس ایک زخمی نوجوان کو موقع سے دور لے جا رہی ہے۔اس نے زیرجامہ کے سوا کچھ نہیں پہنا ہوا تھا۔حکام نے سڑک کوبند کردیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کی خطے میں آمد سے ایک روز قبل تشدد کے پیش آنے والے واقعات نے اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں گذشتہ کئی سال میں خونریزمہینوں میں سے ایک میں مزید کشیدگی کے امکان کو بڑھا دیا ہے۔
جمعہ کے روز ایک فلسطینی مسلح شخص نے مشرقی یروشلم کی ایک یہودی بستی میں 70 سالہ خاتون سمیت سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
یہ حملے اسرائیل کی نئی دائیں بازو کی حکومت کے لیے بھی بڑاامتحان ہیں۔ اس کے قومی سلامتی کے وزیرایتماربن غفیرنے خود کو امن وامان کے محافظ اورعامل کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ حالیہ دنوں میں فلسطینیوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے کے اپنے وعدوں کی وجہ سے میڈیا کی سرخیوں میں رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں ایک اور بٹالین تعینات کی ہے اورمقبوضہ علاقے میں پہلے سے ہی ہائی الرٹ پرموجود سیکڑوں فوجیوں کو مزید کمک بھیج گئی ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ رات یوم ’سبت‘ کے اختتام کے بعد اپنی سلامتی کابینہ کا اجلاس طلب کریں گے تاکہ یہودی عبادت گاہ کے قریب ہونے والے حملے کے مزید ردعمل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
سیکیورٹی فورسزنے ہفتے کوعلی الصباح کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے 21 سالہ فلسطینی مسلح نوجوان کے محلے میں کارروائی کی تھی۔اس نوجوان کو موقع پر ہی گولی مار کرہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے مشرقی یروشلم کے علاقے طورسے مقتول کے خاندان کے 42 افراد اور ہمسایوں کو پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کیا ہے۔
اسرائیلی پولیس کے سربراہ کوبی شبتائی نے شہر میں سواٹ (ایس ڈبلیو اے ٹی) کی ٹیم کی طرح ایک فورس تعینات کی ہے اور فورسز کی نفری میں اضافے کے بعد پولیس کو 12 گھنٹے کی شفٹ میں کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔انھوں نے عوام پر زور دیا کہ اگرانھیں کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو ہاٹ لائن پر کال کریں۔
یہود کی عبادت گاہ پر حملے سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے قصبے جنین میں نو فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔اس کے ردعمل میں غزہ سے راکٹ داغے گئے تھے اور جوابی اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے تھے۔
اسرائیل اورغزہ میں مزاحمت کاروں کے درمیان محدود پیمانے پرفائرنگ کے تبادلے کے بعد پرسکون ماحول پیدا ہو گیا تھا لیکن یروشلم اور مغربی کنارے میں کشیدگی عروج پر تھی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے اعداد وشمار کے مطابق جمعرات کو مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کا حملہ 2002 کے بعد سے اب تک کی سب سے مہلک حملہ کارروائی ہے۔دوعشرے قبل مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم سےکم 30 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد فلسطینی عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور حملوں کو ناکام بنانا ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں نے مغربی کنارے پر اسرائیل کے 55 سالہ کھلے قبضے کو مزید مضبوط کیا ہے۔اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں غربِ اردن ،مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کرلیا تھا۔
فلسطینی مشرقی یروشلم کواپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں اور دنیا کا بیشتر حصہ اس پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ اسرائیل اس کو اپنا دائمی اورخودمختار دارالحکومت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
مشرقی یروشلم کے فلسطینی باشندے مستقل رہائشی حیثیت کے حامل ہیں۔یہ درجہ انھیں اسرائیل بھر میں آزادانہ طور پر کام کرنے اور نقل وحرکت کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن انھیں اسرائیل کے قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں۔اگر کوئی فلسطینی طویل مدت تک شہر سے باہر رہتاہے یا بعض سکیورٹی کیسوں میں مطلوب رہتا ہے تو اس سے سکنی حقوق چھینے جاسکتے ہیں۔