اسرائیلی اورفلسطینی کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں:امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن مشرقِ وسط کے اپنے تین روزہ دورے کے دوسرے مرحلے میں پیر کوتل ابیب پہنچے ہیں۔وہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام سے بات چیت کرنے والے ہیں۔
وہ اس سے قبل مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں تھے جہاں انھوں نے مصری صدرعبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی تھی اوران سے اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔
تل ابیب میں آمدپربلینکن نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر زوردیا کہ وہ کئی دہائیوں سے جاری تنازع میں تشدد کی حالیہ مہلک لہرکے دوران میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے گریز کریں۔
انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اپنی بات چیت سے قبل کہا:’’یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی کو بھڑکانے کے بجائے حالات پُرامن بنانے کے لیے اقدامات کریں‘‘۔
توقع ہے کہ وہ فلسطینی صدرمحمود عباس سے بھی مغربی کنارے کے شہررام اللہ میں بات چیت کریں گے۔
بلینکن نے اتوارکوقاہرہ پہنچنے کے بعدکہا تھا کہ وہ مصر کے ساتھ واشنگٹن کی ’تزویراتی شراکت داری‘کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ مصرامریکا کی فوجی امداد کا ایک بڑا وصول کنندہ ہے اوراس نے اسرائیل فلسطین تنازع میں ثالثی میں مدد کی ہے۔
مصری وزیرخارجہ سامح شکری کے ساتھ ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے تصفیے کاواحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس کے ایک بیان کے مطابق صدر السیسی کے ساتھ ملاقات میں سوڈان میں سیاسی انتقالِ اقتدارکے دوبارہ آغاز کی کوششوں اور لیبیا میں حریف دھڑوں کے درمیان ڈیڈ لاک کو ختم کرنے سمیت علاقائی امورپربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انٹونی بلینکن نے نیوز کانفرنس میں ایران کے ساتھ کشیدہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کے اقدامات کے خلاف کام جاری رکھنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’’امریکااور خطے میں ہمارے بہت سے شراکت داروں کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم خلیج اوراس سے باہران مختلف اقدامات اور کارروائیوں سے نمٹیں اور ان کے خلاف کام جاری رکھیں جن میں ایران ملوّث ہے‘‘۔