سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو نے گذشتہ شام عراق کے عوامی حلقوں میں اس وقت شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی جب ویڈیو میں ایک عراقی خاتون کو رقم اور طلائی زیورات کے ساتھ زیر حراست دکھایا گیا۔ مبینہ طور پر دکھائی جانے والی رقم اور طلائی زیورات خاتون کے شوہر کی ملکیت بتائے جاتے ہیں جن پر ملک میں مالی بدعنوانی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والے اس واقعے کی تفصیلات نے ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کے مسائل کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔
"گولڈن لیڈی"
ویڈیو سامنے آنے کے بعد عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے انکوائری کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ویڈیو بنانے کو غیرقانونی اقدام قرار دیتے ہوئے خاتون کی ویڈیو بنانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔
#العراق - رئيس الوزراء محمد شياع #السوداني يوجه بتشكيل لجنة تحقيق بعد انتشار مقطع فيديو لسيدة عراقية محتجزة وبحوزتها أموال ومصوغات ذهبية تعود لزوجها المتهم بقضايا فساد مالي، ويشدد على ضرورة محاسبة المقصرين الذين قاموا بتصوير السيدة بطريقة غير قانونية مخالفة للضوابط. pic.twitter.com/fW2wOcObTN
— شبكة الصحافة العراقية +INP (@INPPLUSarabi) February 2, 2023
وزیراعظم السودانی نے تحقیقاتی کمیٹی کو اس معاملے پر صرف 72 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔
متنازعہ ویڈیو ایک عراقی خاتون کو پیسوں اور سونے کے زیورات کے درمیان بیٹھا دکھایا گیا ہے اور کہا ہے اسے حراست میں لے کر اپنے شوہر کے پاس واپس کر دیا گیا ہے، جس پر مالی بدعنوانی کے مقدمات کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پرصارفین نے اس خاتون کو ’’گولڈن لیڈی‘‘ قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ مسلح افواج کی جنرل کمان نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ فوج کو اس واقعے کا بہ خوبی علم ہے اور اس اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔