گھر کے باغیچے میں بچے کے سر میں آوارہ گولی لگنے کے حادثے نے گزشتہ گھنٹوں کے دوران کویتی گلیوں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شور برپا کردیا ہے۔ واقعہ کی لوگوں نے شدید مذمت کی ہے۔ بدھ کو ایک سیکورٹی ذرائع نے مقامی میڈیا کو انکشاف کیا کہ 3 سالہ بچے کے سر میں گولی آ لگی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ فائرنگ الجھراہ گورنریٹ کے برانچ ہالز میں سے کسی ایک ہال کی جانب سے کی گئی تھی۔ ذرائع کے بہ قول بچے کو الجھراہ ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا اور اس کا فوری آپریشن کردیا گیا۔
فيديو/ جراح المخ والاعصاب الدكتور حمد العنزي: الكويت هي من صنعتني وعلمتني، ووالدتي كويتية الجنسية لكنني ما زلت «بدون» رغم أن والدي كان أسيرا أثناء الغزو العراقي الغاشم. pic.twitter.com/m8dZP9QP3b
— المجلس (@Almajlliss) February 1, 2023
نیورو سرجن ڈاکٹر حمد جبر العنزی نے انکشاف کیا کہ گولی سر کے دائیں جانب سے داخل ہوئی اور کھوپڑی کے نچلے حصے میں آ گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریض کو آپریشن کے لیے ریفر کیا گیا اور میڈیکل ٹیم نے گولی نکال دی، بچے کا خون بہنا بھی بند ہوگیا۔ یہ چوٹ مستقبل میں ممکنہ معذوری کا باعث بنتی ہے۔
یاد رہے شادیوں یا حتیٰ کہ جنازوں پر گولیاں چلانے کا رجحان کئی عرب ملکوں میں پنپ رہا ہے۔ اردن، لبنان اور دیگر ملکوں میں فائرنگ کے ایسے واقعات اموات کا سبب بنتے رہتے ہیں۔