جوہری ایران

ایرانی جوہری پروگرام کےخلاف امریکا ۔ اسرائیل متحد ہیں:اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا ہےکہ اس ہفتے ایران کے بارے میں امریکا اور اسرائیل کی بات چیت مثبت رہی ہے۔ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک اس معاملے کو "پہلے سے کہیں زیادہ قریب کے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔"

اسرائیلی اہلکار نے مزید کہا کہ "ایران کے بارے میں بات چیت واقعی اچھی رہی۔ بات چیت بہت زیادہ کھلے پن پر تھی۔"

اس ملاقات سے واقف ایک دوسرے اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ بات چیت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدہ ایجنڈے میں شامل نہیں ہے اور ایرانی یوکرین میں روس کی مدد کر رہے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ"ہم ایک نئی دنیا اور ایک مختلف ماحول میں ہیں اور ہم اس معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت سنجیدہ تھی یہ ایران کے بارے میں حقیقی بات چیت تھی نہ کہ صرف مشاورتی ملاقات۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے بہت کھلے پن کا مظاہرہ کیا گیا، ہاں اسرائیلی حکومت کو مایوسی ہوئی کہ امریکا نے تین ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے گروپ کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔

اس ہفتے ان تین ممالک نے عالمی توانائی ایجنسی ’ آئی اے ای اے‘ بورڈ کے اجلاس کے دوران ایران کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تھی مگر امریکا نے اس کی حمایت نہیں کی۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ بات چیت اسرائیل کی نئی دائیں بازو کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی بات ہے۔ یہ ملاقات ایران کے جوہری پروگرام میں بے مثال پیش رفت کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران ہوئی۔

امریکی Axios ویب سائٹ کے مطابق زیر زمین فردو نیوکلیئر تنصیب میں یورینیم کی افزودگی کی سطح 84 فیصد تک پہنچنے اور جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار سطح کے قریب آنے پر یہ معاملہ مزید تشویش کا باعث بنا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف حقیقی فوجی خطرہ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی کی سربراہی میں اسرائیلی وفد میں اسرائیلی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور ایران کے ساتھ معاملات کرنے والے انٹیلی جنس کمیونٹی کے سینیر حکام شامل تھے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور اسرائیلی وفد کی قیادت میں امریکی ٹیم نے ایرانی جوہری پروگرام کی پیش رفت کا انتہائی تشویش کے ساتھ جائزہ لیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ دونوں وفود نے اسرائیل اور امریکا کے درمیان سکیورٹی پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور ایران کی دشمن علاقائی سرگرمیوں کے خلاف ڈیٹرنس بڑھانے کے اقدامات پر ہم آہنگی بڑھانے کا عہد کیا۔

حکام نے حال ہی میں اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

حالیہ فوجی مشقیں ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف ممکنہ فوجی حملے کی ہدایت پر مرکوز تھیں۔ امریکی ایلچی برائے ایران راب میلے نے گذشتہ ہفتے امریکی لبرل ایڈوکیسی گروپ جے سٹریٹ کے زیر اہتمام ایک تقریب میں کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی معائنے پر ایرانیوں کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں