اردنی پارلیمنٹ میں انوکھا واقعہ، دو ارکان معطل، دو کی رکنیت ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردن کی 19 ویں پارلیمنٹ نے اپنی تاریخ کا حیران کن فیصلہ کرتے پارلیمان کے دو ارکان کی رکنیت معطل جب کہ دیگر ارکان کی رکنیت ختم کردی۔ ایوان کے ضوابط کی خلاف ورزی پر اردنی پارلیمنٹ کا اپنے ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کا یہ انوکھا اور غیر مسبوق اقدام ہے۔

موجودہ پارلیمنٹ کے انتخاب کے تقریباً ڈھائی سال بعد تادیبی فیصلوں نے 4 ارکان کو متاثر کیا۔ ایوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ ایک معتبر ادارہ ہے۔ اس کے داخلی نظام کا وقار تحفظ ناگزیر اور اس کے وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک رکن کی رکنیت چار ماہ کے لیے معطل

ایوان نے آج پیرکے روز پارلیمنٹ کے اسپیکر احمد الصفدی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران رکن پارلیمنٹ عبدالرحمٰن العوایشہ کی رکنیت 4 ماہ کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کے حق میں ووٹ دیا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے 104 میں سے 89 ارکان نے رائے شماری میں حصہ لیا۔ قبل ازیں بند کمرہ اجلاس ہوا جس کے بعد اوپن سیشن منعقد کیا گیا تھا۔ اجلاس میں دو ارکان عوایئشہ اور وزیر انصاف احمد الزیادات کے درمیان ہونے والی زبانی تکرار پر عوایشہ کے خلاف انضباطی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ عبدالرحمان عوایشہ پر احمد زیادات کے ساتھ تکرار کے دوران غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے اسپیکرصفدی نے ایوان کی جانب سے حکومت اور وزیر انصاف کو معافی نامہ پیش کیا تھا، جس میں رکن پارلیمنٹ عوایشہ کی جانب سے نازیبا زبان استعمال کی گئی تھی۔ یہ معاملہ پارلیمانی قانونی کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا۔ جواب میں اس کی رکنیت کو 4 ماہ کی مدت کے لیے منجمد کرنے کی سفارش کی۔

"مکا "مارنے والے رکن کی رکنیت ختم

جنوری 2022 میں اردنی پارلیمنٹ نے "آئینی ترامیم کے حوالے سے ایوان کے پہلے اجلاس میں لڑائی اور گھونسوں" کے بعد رکن پارلیمان حسن الریاطی کی رکنیت دو سال کے لیے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا۔

داخلی نظام کے آرٹیکل 160 کے مطابق پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جتنا مناسب سمجھے رکن کے قول یا فعل یا دونوں پراس کی رکنیت معطل کرے۔

العجارمہ اور الفائز کی رکنیت کا خاتمہ

جون 2021 میں اردنی پارلیمنٹ نےرکن اسامہ العجارمہ کو "جارحانہ" بیانات دینے کے بعد ان کی رکنیت ختم کرنے کے لیے پارلیمانی میمورنڈم پر ووٹ دیا۔

ایوان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ 18 جنوری 2023 کو پارلیمانی قانونی کمیٹی کےرکن محمد عناد الفائز کو برطرف کرنے کے فیصلے کی منظوری دی جائے۔ ان پر ایک تقریرمیں توہین آمیز مکتوب ارسال کرنے اورسفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ الفائز پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک مکتوب میں ایک برادر کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔ اس کے علاوہ ان پر پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے غیر حاضری سے متعلق ایوان کے آرٹیکل 154 اور 155/1 کی دفعات کی خلاف ورزی شامل کی گئی ہے۔ ان پر حلف توڑنے کے علاوہ غیر قانونی طور پر پارلیمنٹ کی مراعات حاصل کرنےاور پارلیمانی ضابطہ اخلاق کی دفعات اور قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 90 میں کہا گیا ہے کہ "کسی کو بھی قانون ساز کونسل کی رکنیت سے نہیں نکالا جا سکتا، سوائے اس کے کوئی رکن ایوان کے تقدس کے حوالے سے وضع کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو ایسے ارکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں