’امریکافرانس،حزب اللہ کےحمایت یافتہ لبنانی صدارتی امیدوارسليمان فرنجيہ کی مخالفت کرے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

لبنان کا اگلا صدرکون ہوگا؟اس بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر حزب اللہ کے حمایت یافتہ امیدوارسلیمان فرنجیہ کوحالیہ ہفتوں میں پیرس کی سڑکوں پر دیکھا گیا ہے۔

لبنان میں گذشتہ سال اکتوبرمیں سابق صدرمیشیل عون کی میعاد ختم ہونے کے بعد سے کوئی صدر نہیں ہے اور قانون سازان کے جانشین کا انتخاب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی صدر نہ ہونا ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کے نامزد کسی صدرسے بہتر ہے۔

دوسرے لوگ بحران زدہ ملک میں سیاسی منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کرنے کا ایک موقع دیکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مبصرین کا ایک مختلف گروپ یہ سمجھتا ہے کہ عبوری مدت کے لیے ایک غیرجانبدار امیدوار کی ضرورت ہے۔

امریکا چین کے ساتھ طاقت کے بڑے مقابلےاور یوکرین پرروسی حملے کے بعد سے لبنان پر بہت کم توجہ دے رہا ہے لیکن اس لے باوجودایران کے حمایت یافتہ کیمپوں کے ساتھ منسلک ایک اور صدارتی امیدوارکی دونوں جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے مخالفت کی جارہی ہے۔

امریکا کامؤقف مبہم رہا ہے کیونکہ متعددعہدے داروں نے اس بارے میں ملے جلے اشارے دیے ہیں کہ سليمان بک فرنجيہ کی صدارت سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

سعودی عرب، جس کا لبنان میں کافی اثرورسوخ ہے، سليمان فرنجيہ کی حمایت کوتیارنہیں ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سلیمان فرنجیہ کی جماعت کے وزیرجارج قرداحی کے یمن کے بارے میں بیانات نے خلیج کے ساتھ اختلافات کو جنم دیا تھا۔اگرچہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک شام کے ساتھ منجمد تعلقات کوبحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وائٹ ہاؤس کے بارے میں رویہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔

امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اور سابق نائب معاون وزیر جوئل رے برن کو خدشہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے حوالے سے نرم رویہ ایک بار پھر میشیل عون جیسا صدر بننے کا موقع فراہم کرے گا۔

رے برن نے کہا کہ امریکا کے لیے یہ 'مکمل شرم کی بات' ہوگی کہ وہ حزب اللہ کے حمایت یافتہ ایک اور امیدوار کے ساتھ چھے سال تک کام کرنے کی کوشش کرے۔عون کے داماد اورسابق وزیر خارجہ جبران باسل کو حزب اللہ کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رے برن نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد براہ راست یہ پیغام دینا ہے کہ حزب اللہ کو سیاسی یا مادی مدد مہیا کرنے والے کسی بھی شخص کو قیمت چکاناپڑے گی اور وہ امریکی ڈالر میں کاروبار کرنے سے قاصر ہوگا۔

عون کو سابق وزیر اعظم سعد حریری اور لبنانی فورسز کے رہنما سمیرجعجع کی حمایت کے بعد منتخب کیا گیا تھا۔آج ، عون کی جگہ لینے کے لیے نمایاں امیدواروں میں سے ایک سليمان بک فرنجيہ ہیں۔دیگر ناموں میں سابق لبنانی سیاست دان بھی شامل ہیں جو شام اور ایران کے حمایت یافتہ کیمپوں کے لے تعاون اور درخواستوں کا جواب دینے کی تاریخ رکھتے ہیں۔

سلیمان فرنجیہ کی اس ماہ کے اوائل میں فرانس میں موجودگی ایک تصویر منظرعام پرآئی تھی جہاں انھوں نے مبیّنہ طور پر مشرق اوسط اور شمالی افریقا کے لیے صدرعمانوایل ماکروں کے اعلیٰ مشیر سے ملاقات کی تھی۔حزب اللہ کے حامی روزنامہ الاخبار نے خبر دی ہے کہ فرنجیہ نے اپنے قریبی لوگوں کو مطلع کیا ہی کہ فرانس ان کی بہ طورصدارتی امیدوار حمایت کرتا ہے۔

جاری بات چیت سے آگاہ ذرائع نے العربیہ اکو بتایا ہے کہ فرانس سلیمان فرنجیہ کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور الریاض کی واضح مخالفت کے باوجود ان کے انتخاب پرزور دے رہا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرانسیسیوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے لبنانی نژاد نائجیریا کے ارب پتی گلبرٹ شاغوری نے فرانسیسی حکام اور فرنجیہ کے درمیان ثالثی میں اہم کردارادا کیا ہے۔

شاغوری کو امریکا میں 18 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کیونکہ ان پرامریکا کے صدارتی اور کانگریس کے امیدواروں کو انتخابی مہم میں غیر قانونی عطیات دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا اوران پر امریکا کے وفاقی انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی سازش کرنے کا الزام تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انھوں نے غیر قانونی طور پر عطیات دینے کا اعتراف کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے تحت سلیمان فرنجیہ کو بالواسطہ طور پراس وقت نشانہ بنایا گیا جب انھوں نے ان کے ایک اہم معاون یوسف فینیانوس کے خلاف پابندیاں عاید کی تھیں۔اس اقدام کا مقصد فرنجیہ کو یہ اشارہ دینا تھا کہ اگر وہ حزب اللہ کے ساتھ اپنا اتحاد نہیں توڑتے ہیں تو وہ اس فہرست میں اگلے نمبر پر ہوں گے۔

شام اورایران کے خلاف دباؤ ڈالنے کی مہم کے اہم معماروں میں سے ایک رے برن نے کہا کہ ان اہداف میں عون کی فری پیٹریاٹک موومنٹ، فرانس کی مراڈا موومنٹ، پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی امل تحریک اور یہاں تک کہ حریری کے اتحادی بھی شامل ہیں۔ رے برن کے مطابق، مؤخرالذکر کے حزب اللہ کے ساتھ ’خاموش تعلقات‘ تھے۔

امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے دیگر ہائی پروفائل اہداف میں علی حسن خلیل (بری کے اعلیٰ معاون اور 2014 سے 2020 تک سابق وزیرخزانہ)، جہاد العرب (حریری کے قریبی) اور ڈینی خوری (باسل کے قریبی) شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سعد حریری نے 2019 میں ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔ اس کے بعد وہ لبنان کے سیاسی منظرنامے سے کنارہ کشی اختیارکرچکے ہیں اور اس وقت ابوظبی میں مقیم ہیں۔

شامی صدر بشارالاسد کے قریبی دوست فرنجیہ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے مؤقف کی بار بار تعریف کی ہے۔ان کی حزب اللہ کے مقتول سینیر کارکن عماد مغنیہ کے ساتھ ایک تصویر بھی ہے۔ مغنیہ نے 1983 میں بیروت میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے بم دھماکے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔وہ 2008ء میں شام میں ایک حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے قبل عماد مغنیہ عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو امریکی فوجیوں کے خلاف لڑائی کے لیے تربیت دیتے رہے تھے۔

رے برن کا سلیمان فرنجیہ کے بارے میں کہنا تھا:’’یہ شرم کی بات ہوگی کہ لبنان کا ایسا دوسرا(شخص) صدرمنتخب ہونے جارہا ہے جس کا امریکا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں