عرب قرابتوں میں واپس آجانے کے بعد شام کی وزارت خا رجہ نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ دمشق نے ’’عرب لیگ ‘‘ میں اپنی نشست پر واپس آنے کے حوالے سے عرب لیگ کےاجلاس کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کو بڑی دلچسپی کے ساتھ حاصل کیا ہے۔
شام کی خبر ایجنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ دمشق نے عرب خطے میں جاری مثبت رجحانات اور تعاملات کو دیکھا ہے۔ دمشق کے خیال میں اپنے لوگوں کی سلامتی اور خوش حالی اور استحکام کا حصول تمام عرب ملکوں کے مفاد میں ہے۔
شام کی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے بعد اب اگلے مرحلے میں بات چیت اور باہمی احترام پر مبنی دو طرفہ اور اجتماعی سطحوں پر ایک موثر عرب نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ بیان میں عرب ملکوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور مشترکہ کارروائی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ واضح رہے شام لگ بھگ 12 سال کی غیر حاضری کے بعد عربوں کی آغوش میں واپس آیا ہے۔
عرب ریاستوں کی لیگ نے ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا کہ اس نے شام کی رکنیت بحال کرنے اور آج سے شروع ہونے والے لیگ کونسل کے اجلاسوں میں شام کو دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ "لیگ کے اجلاسوں میں شامی حکومت کے وفود اور اس سے وابستہ تمام تنظیموں اور ایجنسیوں کی شرکت 7 مئی 2023 سے دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ عرب لیگ نے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کے مطابق مرحلہ وار اصول کے مطابق شام میں بحران کو بتدریج حل کرنے کے لیے عملی اور موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔