دیواریں اچھی ہیں یا بری ، سعودی عرب میں گھروں کی بیرونی دیواروں کے حوالے سے بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں حال ہی میں ماہرین اور تعمیراتی اور سماجی امور میں دلچسپی رکھنے والوں میں گھروں کی بیرونی دیواروں کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔ بیرونی دیواروں کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ان کے کردار اور فائدے کے بارے میں کئی دلائل دیے جارہے ہیں۔

یہ تنازعہ جو وزارت ثقافت اور وزارت بلدیات کی جانب سے سرکاری عمارتوں کے قیام کے کئی دہائیوں بعد ان کی دیواروں کو ہٹانے کے اقدام کے بعد سامنے آیا۔ وزارت کا موقف ہے کہ یہ "شہروں کو انسان دوست بنانے اور شہری منظر نامے کو بہتر بنانے کا ایک اقدام ہے اور ملک کے سبز رجحانات کے ساتھ تیز رفتاری سے سفر جاری رکھنے کی کوشش ہے۔


اس حوالے سے ماہر تعمیرات ناصر المطیری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دیواریں ایک ایسا مسئلہ ہے جو خود ضابطہ سازوں نے گھڑا ہے، چونکہ یہ ضابطے پرانے ہیں اور ہر زمانے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ اب نوجوان اور روشن دماغوں کو تعمیراتی ضروریات اور جمالیاتی پہلوؤں کے مطابق انہیں ازسر نو تعمیر کرنا چاہیے۔

ڈپریشن بڑھتا ہے

انہوں نے مزید کہا، "انجینئرنگ اور جسمانی نقطہ نظر سے، دیواریں سورج کی روشنی اور تازہ ہوا کو روکتی ہیں، جبکہ دھول کو اکٹھا کرتی ہیں،" اس کے علاوہ دیواریں انسانوں کو الگ تھلگ کرتی ہیں، انہیں افسردہ اور مشکوک بناتی ہیں، اور پوشیدہ جرائم میں اضافہ کرتی ہیں۔

وہ یہ بھی مانتے ہیں: "پالیسی سازوں کو گھر کی دیوار کے بجائے، ایک نیم عوامی آنگن فراہم کرنا چاہیے جو مالک کے تصرف میں ہو اور ریاست کی ملکیت رہے، اس کے علاوہ سامنے والے آنگن کو وسطی صحن یا بیک یارڈ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے خانہ بدوش بدویوں کے طرز زندگی کا حوالہ دیا، کہ وہ باڑوں کا استعمال نہیں کرتے تھے اور پرائیویسی کے تصور کو مسترد کرتے تھے۔

دیواروں کو ہٹانے کے حوالے سے معاشرے کے تصورات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس کے عادی ہیں، لہٰذا جب معمار ایسا کرنا چاہے تو مخصوص وجوہات کی بناء پر اسے مسترد کرتے ہیں۔ وہ اسے اس لیے قبول نہیں کرتے کیونکہ وہ ابتدا سے ہی اس طرز زندگی کے عادی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی فطری ہے۔

دیوار ، رازداری اور سماجی ثقافت

دیوار اور گھر کے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ سعود یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر خالد الردیعان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ دیوار کا وجود رازداری سے منسلک ہے اور یہ صرف سعودیوں کے لیے مخصوص نہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ معاشرہ جنسوں کو الگ کرتا ہے، جیسا کہ فن تعمیر کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک حصہ مردوں کے لیے اور دوسرا حصہ عورتوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے، لیکن دیواروں کو ہٹانے سے خواتین کی نجی زندگی محفوظ نہیں رہتی جو انہیں ہراساں کرنے کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نہیں کہا کہ گھر کی تعمیر معاشرے کی ثقافت اور روایات سے جڑی ہوئی ہے، دیوار صرف اینٹ اور سیمنٹ نہیں بنتی بلکہ سماجی ثقافت ہے۔ یہ چوروں اور دراندازوں سے گھر کو بچاتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی وزارت ثقافت نے 11 مئی 2021 کو جدہ گورنری میں اپنی ایک شاخ سے دیواریں ہٹا دی تھیں، جس کا بہت سے سعودیوں نے خیر مقدم کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں