اسرائیلی آرمی چیف نے اتوار کے روز لبنان کے جنوبی حصے میں اپنی موجودگی یقینی بنائی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں میں لبنانی محاذ کو بھی جنگ بندی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے جنوبی لبنان میں جا کر اپنے قابض فوجیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ حزب اللہ کو بڑے سخت دھچکے لگے ہیں۔ اس لیے وہ اس وقت سخت مشکل گھڑی میں ہے۔
اسرائیل فوج کا سربراہ ایک ایسے موقع پر جنوبی لبنان میں گھسا ہے جب امریکہ و ایران کے اعلی سطح کے وفود جنیوا میں موجود ہیں تاکہ مفاہمتی یادداشت پر صدور کے دستخطوں کے بعد جنگ بندی کے لیے ایک جامع اور پائیدار معاہدے کی طرف بڑھا جا سکے۔
تاہم اسرائیل نے لبنان میں مداخلت اور بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے جنیوا کے مذاکرات کے متوازی طور پر لبنان میں گھسنے کا فیصلہ کیا۔
لیفٹننٹ جنرل ایال زامیر نے کہا اگرچہ حزب اللہ کو سخت دھچکہ لگ چکا ہے لیکن ہم کمٹڈ ہیں کہ ہمیں اپنے آپ کو تیار رکھنا ہے کہ حزب اللہ خود کو پھر سے مضبوط نہ کر لے اور جس مشکل صورت حال میں حزب اللہ گھر چکی ہے اس سے نکل نہ سکے۔ ان کی اس گفتگو کو ایک بیان کی صورت میں جاری کیا گیا ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تازہ ترین جنگ 2 مارچ سے شروع ہوئی ، جب حزب اللہ نے ایرانی سپریم کمانڈر علی خامنہ ای کی ان کے گھر میں بمباری سے ہلاکت کے خلاف ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اسرائیل پر میزائل داغے۔
لیکن اب جمعہ کے روزنئی جنگ بندی کا لبنان کو حصہ بنائے جانے کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور لبنانی سرزمین پر قبضے کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایال زامیر نے زور دے کر کہا ہے کہ شمالی اسرائیلی کمیونٹی کا حزب اللہ کے میزائلوں سے تحفظ کیا جائے گا۔ ہمارا یہ مقصد ہماری تمام کوششوں کے لیے ایک رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ لہذا ہمیں ہر طرح کی صورت حال میں اور ہر طرح سے اپنی تیاری جاری رکھنا ہے۔