لیبیا کے کرنل معمر قذافی کے دور میں انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ عبداللہ السنوسی کے بیٹے کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔
آج بدھ کو العربیہ اورالحدیث کے ذرائع نے سبھا میں محمد السنوسی کی موت کی اطلاع دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد السنوسی کی لاش الگ الگ جگہوں سے زخمی حالت میں ملی۔
مصادر #الحدث: اغتيال نجل عبد الله السنوسي رئيس جهاز مخابرات #القذافي بالرصاص في #سبها والعثور على جثتة وعليها آثار طلقات نارية بأماكن متفرقة من جسده#ليبيا#الحدث pic.twitter.com/Icphip99bG
— ا لـحـدث (@AlHadath) May 30, 2023
دیگر ذرائع نے اشارہ کیا کہ یہ جرم السنوسی اور اس کے کزن کے درمیان خاندانی جھگڑے کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے اسے کئی بار وار کیے گئے۔
سنوسی جونیئر کو آخری باردسمبر 2022 میں دیکھا گیا تھا جب اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے ان کے والد اور ان کے ساتھیوں کو رہا نہ کیا تو وہ جنوبی لیبیا کے تمام سرکاری اداروں کو بند کر دے گا۔
کئی مہینوں سے عبداللہ السنوسی کا خاندان اس کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے. السنوسی کے خاندان کو خدشہ ہے کہ حکومت انہیں ابو عجیلہ مسعود المریمی کی طرح امریکا کے حوالے نہ کردے کیونکہ المریمی کی طرح السنوسی پربھی لاکربی طیارے میں بم حملے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
نشطاء من أنصار النظام السابق يقول انه تم العثور على (إمحمد) نجل عبد الله السنوسي مقتولا بالرصاص في مدينة سبها جنوب ليبيا
— Ibrahim Blqasm إبراهيم بلقاسم (@Ibrahim_Blqasm) May 30, 2023
قابل ذکر ہے کہ 72 سالہ سنوسی کا تعلق جنوبی لیبیا کے المقارحہ قبیلے سے ہے اور ان پر 2011 میں سابقہ حکومت کا تختہ الٹنے والے فروری کے انقلاب کو دبانے سے متعلق ایک کیس میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
عبداللہ السنوسی لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے برادر نسبتی ہیں۔ ان کے بیالیس سالہ دور اقتدار میں وہ کرنل قذافی کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔