ڈیڑھ سال سے کچھ عرصہ قبل موبینی کوریا سے سعودی عرب پہنچے تھے۔
وہ کورین سیاح تھے جو سعودی عرب کے شہر تبوک میں آئے اور اس وقت سے اب تک وہیں موجود ہیں، کیوں کہ ان کے بقول انہیں اس جگہ اور لوگوں سے پیار ہو گیا ہے۔
شاهد.. سائح كوري يحكي تجربته في زيارة مهرجان #جادة_الإبل في #تبوك@TheFaisalVoice@mishal_0 pic.twitter.com/06PfxdHSbl
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 18, 2023
مو نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ قبل صرف سیاحت کی غرض سے ، ان کے کچھ دوستوں کی دعوت پر سعودی عرب آئے تھے۔ مگر پھر انہیں اس ملک ، اس جگہ سے لگاؤ ہو گیا اور وہ اسے چھوڑ نہیں پائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ان کی دلچسپی کی بہت سی چیزیں ہیں، اور جب بھی موقع ملتا ہے، وہ کسی تقریب یا تہوار میں شرکت کرتے ہیں۔
وہ تبوک میں اونٹ ایونیو فیسٹیول کے لیے کافی پرجوش نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے عوامی مقامات اور تقریبات میں جاتے ہیں۔