بدھ کے روز سیکڑوں آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کےنابلس شہر کے نواحی علاقے عوریف گاؤں پر اسرائیلی فوج کی موجودگی میں حملہ کیا۔
"سکائی نیوز عربیہ" کے نمائندے کے مطابق ایک طرف فلسطینی باشندوں اور دوسری طرف آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کے درمیان آباد کاروں نے گاؤں کے سیکنڈری اسکول کو آگ لگا دی۔
قبل ازیں بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے عوریف گاؤں میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اسی گاؤں کے دو فلسطینیوں کی طرف سے منگل کو ایک یہودی بستی کے قریب کیے گئے مسلح حملے میں 4 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔
عاجل| قوات الاحتلال تطلق الرصاص وقنابل الصوت والغاز بكثافة تجاه الشبان أثناء تصديهم لهجوم مستوطنين على أطراف قرية عوريف جنوب نابلس. pic.twitter.com/zAEzRD2J6b
— عُمَرَ 'ﮮ #فلسطين 𓂆 🇵🇸 (@omar_Palestine3) June 21, 2023
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو سکیورٹی فورسز نے پوچھ گچھ کے لیے خفیہ مقام پر منتقل کیا ہے۔ قابض فوج نے دعویٰ کیا کہ عوریف گاؤں میں تعینات فوجی "دہشت گردوں کے گھروں کی مسماری کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہوں نے ایلی بستی پر حملہ کیا تھا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے ’وفا‘نے عوریف ویلج کونسل کے سربراہ عبدالحمید شحادہ کے حوالے سے بتایا کہ "قابض افواج نے قصبے پر دھاوا بولا، کئی گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد شہریوں کو گرفتار کر لیا۔"
منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں ایلی بستی کے قریب اسرائیلیوں کو نشانہ بناتے ہوئے4 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس حملے میں چار افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔
یہ حملہ مغربی کنارے کے جنوب میں بیت لحم کے قریب ایک فلسطینی نوجوان اور 7 دیگر افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد ہوا ہے، جس میں مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی فوجی کارروائی کے دوران 7 افراد مارے گئے تھے۔