شام اور اسد

شام میں روسی فوج کے فضائی حملوں میں 11 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی علاقے میں اتوار کے روز روس کے فضائی حملوں میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ان میں پانچ شہری بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’جسرالشغور میں روسی فوج کے فضائی حملے میں چھے عام شہری مارے گئے ہیں اور تین باغی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں‘‘۔

حزبِ اختلاف کے زیر قبضہ صوبہ ادلب میں واقع شہر جسر الشغور میں شہری دفاع کے ذمے دار احمد یزیدی نے بھی اس فضائی حملے میں نو ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

رصدگاہ کے مطابق شہر کی پھل اور سبزی منڈی روسی حملے کا نشانہ بنی ہے۔یزیدی نے روسی بمباری کو علاقے کے ’’مقبول بازار پر براہ راست حملہ‘‘ قرار دیا، جو کسانوں کے لیے آمدن کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔

رامی عبدالرحمٰن نے مزید بتایا کہ ادلب شہر کے مضافات میں ہونے والے ایک اور فضائی حملے میں ایک شہری اور حزب اختلاف کا ایک جنگجو مارا گیا ہے اور ان دونوں فضائی حملوں میں کم سے کم 30 شہری زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ان کے بہ قول روسی فوج نے گذشتہ ہفتے کے دوران میں حزب اختلاف کے ڈرون حملوں کے جواب میں یہ تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ان ڈرون حملوں میں دو بچّوں سمیت چار شہری ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ صدربشارالاسد کی حکومت نے روس اور ایران کی مدد سے شام کے تنازع کے ابتدائی مراحل میں کھوئے ہوئے زیادہ تر علاقے باغی جنگجوؤں اور حزب اختلاف سے واگزار کرالیے ہیں اور حزب اختلاف کا اس وقت صوبہ ادلب، اس کے پڑوس میں واقع صوبوں حلب، حماہ اور اللاذقیہ کے بعض حصوں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

ہیئۃ تحریر الشام حزب اختلاف کے زیرقبضہ علاقے میں غالب مسلح گروپ ہے لیکن دیگر باغی گروہ بھی سرگرم ہیں، جن کو ترکیہ کی مختلف سطحوں پر حمایت حاصل ہے۔ہیئۃ تحریرالشام کی سربراہی شام میں القاعدہ کی سابق فرنچائزتنظیم کے سابق ارکان کر رہے ہیں۔

شام میں 2011ء میں احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والے مسلح تنازع میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور جنگ سے ماقبل ملک کی نصف آبادی کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ہے۔ان میں کی کثیرتعداد اس وقت ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں