’سعودی عرب کا 400 سال پرانا گاؤں ’الخوزہ‘ جس کی شان وشوکت صدیوں بعد بھی زندہ ہے‘

’مملکت کے جنوبی علاقے ظہران میں پہاڑوں میں گھرے منفرد گاؤں کو کسی دور میں یمن اور دوسرے عرب ممالک کے درمیان تجارتی مرکز کا درجہ حاصل تھا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے تاریخی اور سیاحتی مقامات میں ایک ایسا گاؤں بھی شامل ہے جو چار سو سال سے مملکت میں فن تعمیر کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

یہ گاؤں سعودی عرب کے جنوبی علاقے ظہران میں ہے جسے’الحوزہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں قدرتی مقامات کی فوٹو گرافی کےشوقین فوٹو جرنلسٹ ’علی مدشوش‘ نے حال ہی میں ’الحوزہ گاؤں‘ کا دورہ کیا۔ سرسبز وشاداب اور پانی کےٹھنڈے میٹھے چشموں کی دولت سے مالا مال یہ گاؤں چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔

اس گاؤں میں موجود چار سو سال پرانے مکانات اس کی عظمت رفتہ کی گواہی دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ گاؤں آج بھی آباد ہے اور اب اس میں جدید طرز تعمیر کی عمارتیں بھی سر اٹھا رہی ہیں مگراس کا قدیم فن تعمیر ابھی تک اپنی شان وشوکت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں فوٹوگرافر علی مدشوش نے کہا کہ "اس گاؤں کی خوبصورتی نظروں کوخیرہ کرتی ہے اور اس کا قدیم طرز تعمیر اس کی گذشتہ تہذیبوں کا آئینہ دار ہے۔ اس گاؤں میں سیکڑوں سال پرانے دور میں مویشیوں کے لیے بنائے گئے باڑے اور سامان رکھنے کے لیے گودام موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ گاؤں وادی ’العرین‘ کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ یہ وادی اس خطے کی سب سے بڑی وادیوں میں سے ایک ہے۔ کسی دور میں یہ گاؤں علاقے کے بڑے ہفتہ وار بازار کی وجہ سے بھی مشہور رہا ہے۔ یہ بازار یمن سے آنے والے تاجروں اور جزیرہ نما عرب کےدوسرے تاجروں کے درمیان ایک ربطےکا ذریعہ تھا۔ اس میں منفرد نوعیت کے قلعے اس کی شاندار فن تعمیر کی ایک منفرد پہچان تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس گاؤں کےلوگ اس دور کی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے تھے جن میں زیادہ تر کاروبار سے منسلک تھے۔ اس گاؤں میں جتنے محلات پھیلے ہوئے ہیں ان کی مضبوطی کا اندازہ ان کےطرز تعمیر سے ہوتا ہے۔ اونچی اور ٹھوس عمارتیں اس گاؤں کے اس دور کے باشندوں کی خصوصیت تھی۔ بعض مکان لکڑی اور مٹی سے بنائے جانے کے باوجود مضبوط ہوتے تھے۔

اس دور میں لوگ گھروں کی چھتوں پر ’السدر‘ اور ’الشوخط‘ کے درختوں کی لکڑٰی اور مٹی کا استعمال کرتے تھے۔ یہ طریقہ ان مکانوں کو پانی کے اندر رساؤ سے محفوظ رکھتا تھا۔

علی مدشوش نے بتایا کہ گاؤکی بیرونی دیوار کو منقش پتھروں سے سجایا گیا تھا۔ گاؤں کی بیرونی دیوار میں دین داخلی دروازے تھے جن میں محافظ کے لیے جگہیں تیا کی گئی تھیں۔

اس لیے وہ شہری شان کے ساتھ کھڑے ہیں جو عمارت کی شان و شوکت سے ظاہر ہوتا ہے، اور ان کی اونچائیاں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ مکانات چھ منزلہ ہیں۔ یہ سب مٹی اور لکڑی کی چھتوں سے بنی ہوئی تھیں جن میں "سدر اور الشوحط‘ درختوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں