الاحساء میں کنگ فیصل یونیورسٹی کی ایک تحقیقی ٹیم امریکی پیٹنٹ آفس سے کھجور سے بائیو فیول کی تیاری کا پیٹنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز العوھلی نے کہا کہ اس نئی سائنسی کامیابی سے سعودی عرب کی طرف سے بائیو فیول کی تیاری کے لیے درکار اسی معیار کی کھجوروں کی بڑی مقدار کی فراہمی کی روشنی میں ایک اہم اقتصادی اثر پڑے گا۔
اس جدید ٹیکنالوجی کی لوکلائزیشن سے سعودی عرب میں کھجور کے شعبے میں عام طور پر بہت سے فوائد شامل ہو جائیں گے۔ پیٹنٹ کا حصول بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے اضافی قیمت حاصل ہوگی اور سعودی عرب میں کھجوروں کی اقتصادیات میں واپسی بڑھ جائے گی۔
العوھلی نے کہا یہ کامیابی فہم و فراست والی قیادت کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر توجہ اور دی جانے وال حمایت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح وزارت تعلیم کی ہدایات نے بھی کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔
جدت طرازی اور سائنسی تحقیق کا شعبہ سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030‘‘ کی امنگوں اور اہداف کے حصول کی نمائندگی کر رہا ہے۔ ان اہداف میں علمی معیشت کی طرف منتقلی کی بھرپور حمایت کرنا بھی شامل ہے۔ محققین کو منفرد اور اصل تحقیق جمع کرانے کی ترغیب دی جاتی اور پھر اس کا پیٹنٹ حاصل کرنے کی حمایت کی جاتی ہے۔
کجھجور کا سب سے بڑا نخلستان
واضح رہے 2022 میں الاحساء نے دنیا کے سب سے بڑے کھجور کے نخلستان کے طور پر گنیز بک آف ریکارڈز میں اپنا نام درج کرایا تھا۔ اس نخلستان میں 25 لاکھ سے زیادہ کھجور کے درخت ہیں۔ یہ درخت بنیادی عنصر کے طور پر کھجور پر منحصر ہیں۔ اس نخلستان کا رقبہ کا رقبہ تقریباً 85.4 مربع کلومیٹر ہے۔ الاحساء نخلستان کو ثقافتی ورثے کی شاخ میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں بھی درج کیا گیا ہے۔ الاحساء نخلستان کو انسانی آباد کاری کی قدیم ترین تاریخ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تاریخ پانچویں صدی قبل مسیح کی ہے۔