بی بی سی قاہرہ کے ہڑتالی عملہ کابرطانوی نشریاتی ادارے پر’سنگین امتیازی سلوک‘ کاالزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بی بی سی کے عملہ نے مشرقِ اوسط میں اپنے ادارے کے دوسرے ملازمین کے مساوی تن خواہوں کے لیے مطالبے کے حق میں تین روزہ ہڑتال کررکھی ہے۔ہڑتالی ملازمین کے نمایندے نے منگل کے روز برطانوی نشریاتی ادارے پر 'سنگین امتیازی سلوک' کا الزام عاید کیا ہے۔ مصر اس وقت تیزی سے بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے دوچار ہے، وہاں افراطِ زر کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

ہڑتالیوں کے ترجمان اور مصر کی صحافتی یونین کے سربراہ خالد البلشی کے مطابق، نشریاتی ادارے کے قاہرہ بیورو کے عملہ کے 75 ارکان بیروت اور استنبول سمیت خطے میں بی بی سی کے دیگر ملازمین کی طرح ڈالر میں تن خواہ دینے یا مقامی کرنسی میں مشاہروں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یونین کے رہ نما نے کہا کہ یہ عدم مساوات "قاہرہ کے عملہ کے خلاف سنگین امتیازی سلوک" کے مترادف ہے۔انھوں نے اپنے مطالبے کے حق میں پیر کو ہڑتال شروع کی تھی اور یہ بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔

لندن میں بی بی سی کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ افراط زر کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مارچ اور جولائی کے درمیان تن خواہوں میں 27 فی صد اضافے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور اپنی مارکیٹ تن خواہ پالیسی کے تحت کام کرتے ہوئے ان (مصری عملہ) کے ساتھ مل کر کوئی حل تلاش کر رہا ہے۔

لیکن البلشی نے ادارے کی اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مصر کی معاشی صورت حال کے پیش نظر تن خواہوں میں 27 فی صد اضافہ ناکافی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں مصری پاؤنڈ کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 50 فی صد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔جون میں سالانہ افراط زر 36.8 فی صد تک پہنچ گیا، جو مئی میں 33.7 فی صد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مصری معیشت حالیہ برسوں میں حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات، کرونا وائرس کی وَبا اور یوکرین جنگ کے اثرات سے نمٹ رہی ہے۔مصر روس اور یوکرین سے گندم درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

اس سے قبل امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے یہ اطلاع دی تھی کہ بی بی سی کے استنبول میں عملہ کو ڈالرمیں تن خواہیں ادا کی گئی تھیں۔اس نے یہ اطلاع مصری عملہ کے ترجمان کے بیان کی بنیاد پر دی تھی لیکن بعد میں انھوں نے وضاحت کی کہ استنبول میں بی بی سی کے عملہ کو ترک لیرا میں تن خواہ ادا کی گئی تھی۔اس کی تصدیق بعد میں بی بی سی کے پریس آفس نے بھی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں