سعودی ولی عہد اور ترکیہ کے صدر کے درمیان باضابطہ مذاکرات، متعدد مفاہمت ناموں پر دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پیر کو جدہ میں باضابطہ بات چیت کی جہاں انہوں نے مختلف شعبوں پر محیط کئی دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کی نگرانی کی۔

دونوں فریقوں نے توانائی، دفاعی صنعت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب نے ترکیہ کی دفاعی کمپنی ’’ بایکر‘‘ کیساتھ دو معاہدوں پر دستخط کیے۔

مملکت کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے منگل کے اوائل میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ وزارت دفاع اور بایکر کے درمیان دو حصول کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت وزارت ڈرونز حاصل کرے گی۔ اس کا مقصد مملکت کی مسلح افواج کی تیاری کو بہتر بنانا اور اس کی دفاعی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

ایس پی اے نے کہا کہ سرکاری بات چیت کے دوران سعودی اور ترکیہ کے رہنماؤں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور ان کے درمیان تعاون کے ذرائع اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے مواقع پر غور کیا۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر ایردوان نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں اور ان معاملات کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت شروع ہونے سے قبل ولی عہد نے سرکاری استقبالیہ تقریب میں ایردوان کا استقبال کیا۔

سعودی ولی عہد اور اردگان کی موجودگی میں مختلف شعبوں میں کئی دو طرفہ معاہدوں پر دستخط  (SPA)
سعودی ولی عہد اور اردگان کی موجودگی میں مختلف شعبوں میں کئی دو طرفہ معاہدوں پر دستخط (SPA)

ایردوان مئی میں ترکیہ کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔ ترک صدر کا مملکت کا دورہ خلیجی دورے کا پہلا پڑاؤ ہے۔ 17 سے 19 جولائی تک جاری رہنے والے اس دورے میں وہ قطر اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔

دورے کے ایک حصے کے طور پر سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح اور ترکی کے وزیر تجارت عمر بولات کی موجودگی میں سعودی ترک بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا۔

فورم میں تعاون کے ذرائع اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں 9 مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان ہوا۔ یہ یادداشتیں توانائی، رئیل اسٹیٹ، تعمیرات، تعلیم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت اور میڈیا کے شعبوں سے متعلق تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں