اور اب عراق: حکومت نے بھارت ساختہ سردی کا آلودہ شربت دواخانوں سے اٹھوا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں محکمہ صحت کے حکام نے بھارتی ساختہ کولڈ سیرپ کو دواخانوں سے اٹھوانا شروع کردیا ہے۔ بلومبرگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس شربت کو زہریلے کیمیکل سے آلودہ پایا گیا ہے۔

کردستان میڈیکل کنٹرول ایجنسی میں شعبہ رجسٹریشن کے سربراہ کوشر یونس نے کہا کہ ملک بھر میں ان کے علاقے کی تقلید میں بدھ سے اس دوا کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔اس سے پہلے خودمختار کردستان میں 30 جولائی سے اس ضرررساں شربت کو واپس لینے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

انھوں نے مرکزی حکومت کی وزارت صحت کے ایک دستاویز کی ایک کاپی فراہم کی جس میں ملک بھر میں دواخانوں کوبھارت ساختہ اس شربت کو واپس لینے کا حکم دیا گیا تھا۔تاہم کوشر یونس نے کہا کہ دوا کے استعمال سے کسی بیماری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

عراق کی وزارتِ صحت کے پہلے بیان کی تردید کرتے ہوئے یونس نے کہا کہ کردستان سے منظوری ملنے کے بعد بھارت سے اس دوا کو ملک بھر میں درآمد کرنے اور فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔ وزارت صحت کے ترجمان نے فوری طور پر اس حوالے سے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔

بلومبرگ نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ مارچ میں بغداد کے خریدکردہ شربت ’’کولڈ آؤٹ‘‘ کے نمونے میں ایتھیلین گلائکول کی غیر محفوظ سطح پائی گئی تھی۔ یہ نمونہ بلومبرگ کی جانب سے چھے ممالک میں خریدے گئے 33 نمونوں میں سے ایک تھا اور اسے امریکی ریاست کونیکٹی کٹ کی ایک آزاد لیبارٹری والیسر ایل ایل سی نے ٹیسٹ کیا تھا۔

بلومبرگ نے 8 جولائی کو عراقی اور ہندوستانی حکام کے ساتھ اس ٹیسٹ کے نتائج کا اشتراک کیا۔ایک سال میں یہ پانچواں موقع ہے جب بھارت کی برآمد کردہ دواؤں میں ایتھیلین گلائکول کی حد سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔اسی کیمیکل سے مبیّنہ طور پر گذشتہ سال گیمبیا اور ازبکستان میں ہندوستانی ساختہ کھانسی کا شربت پینے والے بچّوں کی بڑے پیمانے پر اموات ہوئی تھیں۔

کولڈ آؤٹ کے نمونے کے لیبل سے پتا چلتا ہے کہ یہ شربت بھارت کی دواساز فرم فورتس (انڈیا) پرائیویٹ لمیٹڈ کا تیار کردہ ہے۔ کمپنی نے اب مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایک ذیلی ٹھیکیدار نے اس دوا کو تیار کیا تھا اور بھارت کے ڈرگ ریگولیٹرز اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یونس نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں کولڈ آؤٹ کی متعدد کھیپیں عراق درآمد کی گئی ہیں۔ان میں آخری کھیپ جنوری 2023 میں منگوائی گئی تھی۔ان سب کو دواخانوں سے واپس لیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ کردستان میڈیکل کنٹرول ایجنسی نے فروخت سے پہلے ہر کھیپ کا ٹیسٹ کیا تھا ، لیکن بعض کھیپوں کا ایتھیلین گلائکول جیسی خامیوں کے لیے ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ ان ٹیسٹوں کو ضروری نہیں سمجھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں