یمن کے قریب کھڑے بحری ٹینکر سے نصف تیل نکال لیا گیا: اقوام متحدہ

ایک ہفتے قبل شروع آپریشن میں متبادل ٹینکر میں 6 لاکھ 36 ہزار بیرل آئل منتقل کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں یمنی بندرگاہ حدیدہ کے قریب لاوارث ذخیرہ کرنے بحری ٹینکر میں موجود تیل کی نصف سے زیادہ مقدار کو ایک متبادل بحری جہاز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ آئل نکالنے کا کام ایک ہفتہ قبل شروع کیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی تنظیم نے ٹینکر کے 10 لاکھ بیرل سے زیادہ لائٹ کروڈ کو نئے جہاز تک لے جانے کا عمل شروع کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں ماحولیاتی تباہی کو روکنا تھا۔ پلیٹ فارم ’’X‘‘ جس کا پرانا نام ٹویٹرتھا پر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر ڈیوڈ گریسلی نے کہا کہ گزشتہ سات دنوں میں جہاز میں موجود نصف سے زیادہ تیل متبادل جہاز میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل گریسلی نے کہا تھا کہ تیل کی منتقلی کے پورے عمل میں تین ہفتوں سے بھی کم وقت لگے گا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے آپریشن کے انچارج محمد مضوی نے بدھ تک 636 ہزار بیرل سے زیادہ تیل متبادل ٹینکر میں منتقل کردیا گیا ہے۔ مضوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم آج مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے 55 فیصد تیل کی منتقلی تک پہنچ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کو امید ہے کہ 143 ملین ڈالر کا آپریشن ماحولیاتی تباہی کے خطرے کو دور کر دے گا۔ اس ممکنہ تباہی سے تقریباً 20 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا تھا۔

بحری جہاز ’’ صافر‘‘47 سال قبل تیار کیا گیا تھا اور 1980 کی دہائی سے ایک تیرتے ہوئے ذخیرہ کرنے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ حدیدہ کی تزویراتی بندرگاہ سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں