امریکی آرتھوپیڈک سرجنوں کے ساتھ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے امید اور شفا کی آمد

امریکی ڈاکٹرپانچ روزہ مشن کے دوران میں 150 مریضوں کا جوڑوں یا ہڈیوں کی تبدیلی کا آپریشن کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا سے آرتھوپیڈک سرجنوں کی ایک ٹیم غزہ کی پٹی کا دورہ کر رہی ہے۔ان کی آمد کا مقصد جوڑوں کی تبدیلی کے آپریشن انجام دینا اور مقامی ڈاکٹروں کو سرجری کی تربیت دینا ہے۔

امریکا میں قائم غیر منافع بخش تنظیم فجر سائنٹیفک کے صدر خالد صالح کا کہنا ہے کہ اس دورے سے جوڑوں کے مسائل اور دائمی درد سے متاثرہ مریضوں کے علاوہ وہیل چیئر پر بیٹھنے یا چلنے کے لیے چھڑی استعمال کرنے والوں کو بھی مدد ملے گی۔

امریکی ڈاکٹروں کی ٹیم پانچ روزہ مشن پر غزہ آئی ہے۔ وہ کم سےکم 150 مریضوں کا جوڑوں یا ہڈیوں کی تبدیلی کا آپریشن کریں گے، مقامی سرجنوں کو تربیت دیں گے اورچالیس لاکھ ڈالر مالیت کے اہم آلات عطیہ کریں گے۔

خالدصالح نے غزہ کے جنوب میں واقع قصبے خان یونس میں ناصراسپتال میں سرجری تھیٹر سے باہر نکلتے ہوئے کہا:’’ہماری امید ہڈیوں کے جوڑوں کے مسائل سے دوچار ان مریضوں کی کارکردگی کو بحال کرنا ہے تاکہ وہ اپنے خاندانوں اور اپنے معاشرے کے فعال رکن بن سکیں‘‘۔

فجر سائنٹیفک آرگنائزیشن کے سربراہ خالد صالح 6 اگست 2023 کو خان یونس میں امریکی سرجنوں کے دورے کے موقع پر ناصر میڈیکل کمپلیکس میں سرجری کر رہے ہیں۔
فجر سائنٹیفک آرگنائزیشن کے سربراہ خالد صالح 6 اگست 2023 کو خان یونس میں امریکی سرجنوں کے دورے کے موقع پر ناصر میڈیکل کمپلیکس میں سرجری کر رہے ہیں۔

فجرسائنٹیفک کے چیف ایگزیکٹیو مصعب ناصر نے کہا کہ غزہ کی وزارت صحت کی میزبانی میں امریکی ٹیم کے دورے کا مقصد مقامی سرجیکل ٹیموں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس کا مقصد صرف خود سرجری کرنا نہیں ہے، جتنا تربیت اور مقامی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، اس لیے جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے، مزید سرجری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے‘‘۔

فجر تنظیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مصعب ناصر 6 اگست 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع  قصبے خان یونس میں امریکی سرجنوں کے دورے کے موقع پر ناصر میڈیکل کمپلیکس میں رائٹرز کے نمایندے کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔
فجر تنظیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مصعب ناصر 6 اگست 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع قصبے خان یونس میں امریکی سرجنوں کے دورے کے موقع پر ناصر میڈیکل کمپلیکس میں رائٹرز کے نمایندے کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔

ستاون سالہ حلیمہ ابو حیا نے بتایا کہ ’’انھوں نے گھٹنے کے جوڑوں کی تبدیلی کے لیے تین سال تک انتظار کیا کیونکہ وہ غزہ سے باہر مہنگے علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی تھیں اور غزہ کے اسپتالوں میں سرجری کی ویٹنگ لسٹ میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے‘‘۔

چار بچّوں کی ماں نے سرجری کے ایک دن بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’اب میں پرامید ہوں۔ انھوں (ڈاکٹروں) نے مجھ سے کہا کہ میں جلد ہی بغیر درد کے چلوں گی اور مجھے اپنا گھٹنا کھونے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی‘‘۔

خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس میں فلسطینی مریضہ حلیمہ ابوحیا جوڑوں کی تبدیلی کی سرجری کے بعد وہیل چیئر پر بیٹھی ہیں۔
خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس میں فلسطینی مریضہ حلیمہ ابوحیا جوڑوں کی تبدیلی کی سرجری کے بعد وہیل چیئر پر بیٹھی ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی اقتصادی پابندیوں اوراسرائیل کی برسوں کی ناکا بندی کی وجہ سے گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔اس نے فلسطینی علاقے کی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کی مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اس محصور علاقے میں صحت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کو عام آپریشن کے علاوہ آرتھوپیڈک سرجری کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں