شام کے شہر حلب میں داعش کے ارکان کی جانب سے ہسپتال میں قیدیوں پر تشدد کئے جانے کا انکشاف ہوگیا۔ تنظیم کے ارکان ایک بچوں کے ہسپتال میں مارچ 2013 کی ایک ریکارڈنگ میں نظر آئے۔ وہ ماسک کے بغیر گھومتے رہے تھے۔
انہوں نے شہر پر اپنے کنٹرول کے دوران حراست میں لیے گئے افراد پر تشدد کیا۔ اس دوران انہیں احساس نہ ہوا کہ ہسپتال کے کیمروں نے ان کے تشدد کو ریکارڈ کرلیا ہے۔
The videos ISIS didn’t want you to see: How grainy security footage could help hold abusers to account #terrorism https://t.co/ZI784HES9B
— Phil Gurski (@borealissaves) September 6, 2023
فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ داعش کے بندوق بردار ہسپتال کی راہداریوں میں گھوم رہے ہیں جسے وہ اس وقت اپنے ہیڈکوارٹرز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ قیدیوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جارہا ہے۔ ان قیدیوں کو وہ لاٹھیوں سے مار رہے اور تشدد کر رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق اس فوٹیج کو ’’ دولت اسلامیہ عراق و شام‘‘ کا تعاقب کرنے اور انہیں جوابدہ ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان ویڈیوز کی اہمیت اس حقیقت سے سامنے آتی ہے کہ بین الاقوامی انصاف اور احتساب کمیٹی نے مجرمانہ قانونی چارہ جوئی کے لیے انتہا پسند گروہوں کے ذریعے کیے جانے والے جرائم کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
کمیشن فار انٹرنیشنل جسٹس اینڈ اکائونٹیبلٹی کے ڈائریکٹر آف انویسٹی گیشن اینڈ آپریشنز کرس انگلز نے کہا کہ ان ویڈیو کلپس کو کسی بھی مقدمے کی سماعت میں بہت اہم ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اس کے بعد زندہ بچ جانے والے متاثرین کی کہانیوں سے تصدیق کر سکتی ہے۔
فرانسیسی صحافی ڈیڈر فرانکوئس جنہیں تنظیم نے رہائی سے قبل حلب میں حراست میں لیا تھا نے انکشاف کیا کہ وہاں کچھ شامی اور عراقی قیدی اور مقامی شہری بھی تھے جنہیں مختلف وجوہات مثلاً تمباکو نوشی کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر تشدد کیا جاتا تھا۔ دروازے کے پیچھے سے ان کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ یاد رہے دہشت گرد تنظیم نے ہسپتال کو جیل کے طور پر استعمال کیا تھا جہاں سے زیادہ لوگ زندہ نہیں نکل سکے تھے۔