سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی دھاوے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں یہودی ’’انتہا پسندوں‘‘کے مسجد اقصیٰ پر "دھاوے" کی مذمت کی ہے۔

یواے ای کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان مین کہا ہے کہ یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں مقدس مقام کو’’مکمل تحفظ‘‘ مہیا کیا جانا چاہیے۔اس نے ’’وہاں ہونے والی سنگین اور اشتعال انگیز خلاف ورزیوں کو روکنے‘‘کا مطالبہ کیا ہے۔

مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور اردن کے زیر انتظام ہے۔ غیر مسلموں کو اس مقام پر جانے کی اجازت ہے ، لیکن انھیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔یہودی اسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔وہ اسے مقدس مقام گردانتے ہیں اور وہ وہاں بہ زور دراندازی اپنا حق سمجھتے ہیں۔

اماراتی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو روکیں اور خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھاوا دینے سے گریز کریں۔ بیان میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایسے تمام طریقوں کو مسترد کرنے کی تصدیق کی گئی ہے جو بین الاقوامی جواز سے متعلق قراردادوں کے منافی ہیں اور مزید کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہود نے مسجد اقصیٰ پر یہ چڑھائی اپنے نئے سال روش ہاشناه کے آغاز کے موقع پر کی ہے اور یہ ان کی روایت کے عین مطابق کی ہے۔متحدہ عرب امارات باقاعدگی سے ان تمام اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتا ہے جو فلسطینیوں کو متاثر کرتے ہیں یا تنازع کا شکار علاقے میں بدامنی کو ہوا دیتے ہیں حالانکہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 2020 میں معاہدہ ابراہیم پر دست خط کے بعد سے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور انھوں نے 15 ستمبر کو اس کی تیسری سالگرہ منائی ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب نے بھی سوموار کو ایک بیان میں مسجد اقصیٰ پرانتہا پسند یہودیوں کے دھاوے کی مذمت کی تھی۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی ایک رپورٹ کے مطابق ،’’وزارتِ خارجہ اسرائیلی قابض افواج کے حفاظتی حصار میں انتہاپسندوں کے ایک گروپ کے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کرتی ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایسے اقدامات تمام بین الاقوامی اصولوں اور کنونشنوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پرلانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے گذشتہ ہفتے صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ عمل تنازع فلسطین سمیت دیگر امور کی وجہ سے بدستور پیچیدگی کا شکار ہے۔

دریں اثنا خلیج تعاون کونسل کے رکن دونوں ہمسایہ ممالک نے اپنے بیانات میں امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی ضرورت کا اعادہ کیا اور ایسے طریقوں کو ختم کرنے پر زوردیا جو دو ریاستی حل کے لیے خطرہ ہیں۔اس دیرینہ تنازع کے کسی ایسے ممکن حل کی صورت میں 1967 کی سرحدوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔

مصر، یمن اور اردن نے بھی انتہاپسند یہود کی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دراندازی کی مذمت میں اس طرح کے بیانات جاری کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں