سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے ’’کہ اوپیک کا تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ مارکیٹ کے استحکام پر مبنی تھا اور اس کا مقصد یوکرین میں روس کی جنگ میں مدد کرنا نہیں تھا۔‘‘
ولی عہد نے امریکی ٹی وی فاکس نیوز پر بدھ کو علی الصباح نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں بتایا: "ہم صرف رسد اور طلب کو دیکھتے ہیں۔ اگر رسد کی کمی ہے تو اوپیک پلس میں ہمارا کردار اس کمی کو پورا کرنا ہے۔ اور اگر رسد ضرورت سے زیادہ ہو تو اوپیک پلس میں ہمارا کردار مارکیٹ کے استحکام کے لیے اس کی پیمائش کرنا ہے۔"
Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman tells Fox News that OPEC’s decision to cut oil production was based on market stability.#SaudiArabia #OPEC
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 20, 2023
More here: https://t.co/gC2wJmTDA7 pic.twitter.com/eNS4BlAtyR
ایک سوال کے جواب میں سعودی رہنما نے کہا ’’کہ مملکت کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ریاض ماسکو اور کیئف کے درمیان بحران کو حل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔‘‘
یوکرین میں روس کی جنگ کے بارے میں سوال پر شہزادہ محمد نے کہا کہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا "واقعی برا" ہے۔
اگست میں چین، بھارت، امریکہ اور یوکرین سمیت تقریباً 40 ممالک کے نمائندوں نے سعودی شہر جدہ میں ایک امن سربراہی اجلاس میں شرکت کی جس کا مقصد تنازع کا خاتمہ تھا، لیکن روس اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوا۔