"میرا آدھا خاندان مر گیا اور میں نے انہیں دیکھا تک نہیں"منشیات کے اسمگلر کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"میرا آدھا خاندان مر چکا اور میں نے انہیں دیکھا تک نہیں"۔ یہ الفاظ سعودی عرب کی جیل میں قید ایک مقامی منشیات کے اسمگلر کے ہیں جسے اپنے کیے کے انجام پر افسوس ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے اس کی افسردگی پر مبنی گفتگو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شائع کیا ہے تاکہ منشیات کا دھندہ کرنے والوں کو سبق دینے کے ساتھ منشیات کے خلاف شہریوں میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔

قیدی نے منشیات کی سمگلنگ پر افسوس کا اظہار کیا خاص طور پر اس لیے کہ وہ اپنے والد، بھائی اور بیٹے سمیت اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو دیکھنے سے بھی محروم ہے۔ وہ مرچکے مگر یہ انہیں دیکھ بھی نہیں سکا ہے۔

ویڈیو میں اس نے انکشاف کیا کہ اس نے ایک شخص سے اس سے اپنی ماں کے ساتھ عمرہ کی ادائی کے لیے کچھ پیسے مانگے۔

اس نے اسے پیسے اور گاڑی بھی دینے کا وعدہ کیا۔ پھر کچھ دنوں بعد اس شخص نے اس سے رابطہ کیا اور اسے اطلاع دی کہ ایک گاڑی اس کے پاس آئے گی جس میں اس کا سامان ہے۔ وہ اسے میرے پاس لائے۔

اس نے مزید کہا کہ مجھے اس شخص سے معلوم ہوا کہ گاڑی میں منشیات موجود ہیں لیکن میں لالچ کی اور اس کی بات مان لی۔

قیدی جس کی شناخت نہیں کی گئی نے کہا کہ "میں نے آزادی اور اپنے بچے کھو دیے۔ میرا بیٹا 22 سال کا ہے، میرے والد، میری بیوی اور میرا بھائی مجھ سے جدا ہوگئے۔ میرا آدھا خاندان فوت ہوچکا ہے۔ مجھے اس سارے کام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں