یو اے ای اور ملائیشیا آٹھ ارب ڈالرز کی مشترکہ سرمایہ کاری کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا قابل تجدید توانائی میں آٹھ ارب ڈالرز کی مشترکہ سرمایہ کاری کریں گے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ملائیشیا میں سال 2025 تک آٹھ 8 ارب ڈالر مالیت کی 10 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی مشترکہ طور پر تیار کرے گا۔

اس سرمایہ کاری کے منصوبے کو جمعرات کے روز ملائیشین صدر کے جمعرات کو ابوظبی کے دورے کے دوران طے پائے گئے۔ اس موقع پر ملائیشین انویسٹمنٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ابوظبی فیوچر انرجی کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔

ملائیشین وزیر اعظم انور ابراہیم نے اپنے دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظبی کے حکمران شیخ محمد بن زید آل نہیان سے ملاقات بھی کی اور متحدہ عرب امارات کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ گول میز اجلاس میں بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ ملائیشیا نے توانائی کے ہدف کے حصول کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے۔ ملائیشیا کا ہدف ہے کہ 2050 تک اپنی توانائی کی 70 فیصد فراہمی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کے۔ ابھی یہ قابل تجدید توانائی سے 25 فیصد توانائی پیدا کی جا رہی ہے۔جبکہ مارچ کے آخر میں یہ تقریباً 25 فیصد تھی۔

حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے 637 ملائیشیا کا ہدف ہے کہ 2050 تک اپنی توانائی کی 70 فیصد فراہمی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جائے، جبکہ مارچ کے آخر میں یہ تقریباً 25 فیصد تھی۔

حکومتی تخمینہ کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے کم از کم ہے 135 بلین ڈالرز سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بین الاقوامی سرمایہ کاری سے باہمی تعلقات بھی مضبوط تر ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں