فلسطین اسرائیل تنازع

سلامتی کونسل غزہ میں جاری خونریزی کی ذمہ دار ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہےکہ جو ممالک انسانی ہمدردی کے تحت جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیےامداد کی خاطر غزہ کی پٹی میں کی راہ داریاں کھلوانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں وہ غزہ کی پٹی میں جاری خون خرابے کے ذمہ دار ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں بعض ممالک نے غزہ میں جاری اسرئیلی حملے روکنے اور امداد کی فراہمی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کرکے قتل وغارت جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔

حماس نے منگل کے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ "یہ موقف اسرائیل کو مزید جرائم کرنے اور نسل کشی کا سلسلہ بڑھانے اور غزہ میں بسنے والے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں غزہ میں امداد کے لیے قرارداد میں رکاوٹ ڈالنا تمام بین الاقوامی اور انسانی کنونشنوں، رسم و رواج اور قوانین کی صریح خلاف ورزی میں ہے۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری کے متاثرین کی بازیابی کا منظر
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے متاثرین کی بازیابی کا منظر

روسی منصوبہ ناکام ہو گیا

غزہ کی پٹی میں کشیدگی کو روکنا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے جب ایک امریکی، برطانوی اور فرانسیسی ویٹو نے سلامتی کونسل میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے لیے روسی مسودہ قرارداد کو منظور کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اسرائیل نے پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ آج منگل کی صبح اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 50 شہری شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر بچے، خواتین اور عام شہری ہیں۔

سلامتی کونسل ایک روسی مسودہ قرارداد کو منظور کرنے میں ناکام رہی جس میں غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری کا خوفناک منظر
غزہ پر اسرائیلی بمباری کا خوفناک منظر

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے کہا کہ ان کے ملک کی طرف سے پیش کیے گئے منصوبے کا مقصد ایک "با وقار" انسانی جنگ بندی کا مطالبہ کرنا تھا مگربدقسمتی سے سلامتی کونسل کو مغرب نے یرغمال بنا رکھا ہے‘‘۔

اس موقعے پر امریکی اور برطانوی مندوبین نے کہا کہ قرارداد میں حماس کا ذکر یا مذمت نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ قرارداد کی منظوری کے لیے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

جبکہ چینی مندوب نے اسی اجلاس میں غزہ میں ایک بڑے انسانی بحران کو روکنے کے لیے انسانی راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا۔

مصری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مصری امدادی قافلے العریش سے رفح کراسنگ کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ہیں مگر اسرائیلی فوج کی طرف سےامدادی قافلوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ پر دس روز سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں اور توپخانے کی بمباری کے نتیجے میں تین ہزار کے قریب شہری شہید ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں