اسرائیل کو انتہائی مطلوب السنوار جس کی جان اسرائیلی ڈاکٹروں نے بچائی تھی کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

دو ہفتے قبل حماس کے ایک رہ نما یحییٰ سنوار کا نام سامنے آیا تھا۔ حماس کے اس رہ نما کا نام یحییٰ السنوارہے جنہیں سات اکتوبرکو غزہ میں اسرائیلی بستیوں پر حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے اچانک حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا۔

مردہ قرار دیے گئے یحییٰ السنوار کون ہیں؟

یحییٰ السنوار نے دو دہائیوں کے دوران کئی سال اسرائیلی جیلوں میں گذارے۔ انہیں اب اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب فلسطینی کمانڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ روانی سے عبرانی زبان بولتے ہیں۔ مقامی اخبارات پڑھتے اور اسرائیلی ٹی وی چینلز کو دیکھتے ہیں تاکہ اس علم کو جنگ لڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اسرائیلی فوج نے السنوار پر الزام لگایا کہ انہوں نے حماس کے عسکری ونگ کے رہ نما محمد الضیف کے ساتھ مل کر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اسرائیلی فوج انہیں مردہ شخص قرار دیتی ہے جنہوں نے اسرائیل پرحملہ کرکے 1400 اسرائیلیوں کو ہلاک اور تقریباً 212 یہودیوں کو جنگی قیدی بنایا تھا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ وہ السنوار کا شکار کر رہی ہے، جو ممکنہ طور پر غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کے زیر استعمال سرنگوں کی بھول بھلیاں میں چھپے ہوئے ہیں۔

لیکن حماس کے ڈھانچے میں سنوار کی درجہ بندی کیا ہے، اور تحریک میں اس کی شروعات کیا تھی؟۔

تشدد پسند

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں حماس کے رہ نما کے طور پر السنوار حماس کے پیچیدہ اور خفیہ قیادت کے ڈھانچے کا حصہ ہیں جس میں اس کا عسکری ونگ اور اس کا سیاسی بازو شامل ہے۔

سنہ 2017ء میں خالد مشعل کی جگہ اسماعیل ھنیہ نے حماس کے سیاسی شعبے کی زمام کار ہاتھ میں لی تو یحییٰ السنوار کو انہوں نے غزہ کی پٹی میں حماس کا لیڈر مقرر کیا۔

تاہم اس قدم کو حماس کی زیادہ شدت پسند تبدیلی کا اشارہ سمجھا جاتا تھا۔ خاص طور پر چونکہ اسرائیلی سکیورٹی حکام سنوار کو سب سے زیادہ شدت پسند ارکان میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ السنوار کو حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام اور سیاسی شعبے کے درمیان ایک پل سمجھا جاتا ہے۔

السنوار 1960ء کی دہائی کے اوائل میں غزہ کی پٹی کے اندر ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ وہ طلبا سیاست میں سر گرم رہے اور حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔ شیخ احمد یاسین کو اسرائیل نے 2004 میں ایک فضائی حملے میں شہید کردیا تھا۔

ملٹری ونگ بنانے میں مدد

جب 1980 کی دہائی کے اواخر میں فلسطینی بغاوت کے دوران حماس ایک مذہبی تحریک سے مسلح گروپ میں تبدیل ہوئی تو السنوار نے اسرائیلی حکام کے مطابق اس کا عسکری ونگ بنانے میں مدد کی۔

حماس کے حکام کے مطابق اس نے ایک داخلی سکیورٹی یونٹ بھی قائم کیا جو مخبروں کا پتا چلا کرانہیں شکار کرتا تھا۔

سنہ 1988ء میں انہیں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا ۔ بعد میں اسرائیلی فوجیوں کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا اور چار بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

جیل میں انہیں حماس کےقیدیوں کی سربراہی پر مامور کیا گیا۔ قید کے عرصے کے دوران وہ گھنٹوں اسرائیلیوں کے ساتھ گذارتے اوران کی ثقافت کوسمجھنے کی کوشش کرتے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ السنوار کو عبرانی ٹی وی چینل دیکھنے کا نشے کی حد تک جنون تھا۔

اسرائیلی ڈاکٹروں نے السنوار کو کیسے بچایا؟

جیل کے سابق اہلکار اور سابق فوجی حکام کے مطابق قید کے دوران ایک موقع پراسرائیلی ڈاکٹروں نے اس کی جان بچائی جب وہ دماغی بیماری میں مبتلا ہوئے ایک اسرائیلی ہسپتال میں اس کی سرجری کی گئی۔

جب حماس نے 2006 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو اغوا کیا تو سنوار کو اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کے دوران زیر غور لایا گیا جس کے بعد شالیت کی رہائی کے بدلے 1,027 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان میں السنوار بھی شامل تھے۔

گیرشون باسکن جو اس وقت اسرائیلی انٹیلی جنس سروس اور حماس کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کار کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ السنوار کو رہا کرنے پر اسرائیلی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔

لیکن رہائی کے بعد السنوار تیزی سے حماس کی صفوں میں شامل ہو گئے اور حماس تحریک کے ارکان نے انہیں 2017 میں غزہ کی قیادت کے لیے منتخب کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے حماس کے عہدیداروں کے مطابق حماس کے دیگر رہ نماؤں نے بھی اراکین کو یقین دلایا کہ غزہ کے صدر کے طور پر ان کا انتخاب جماعت کو اندرونی اور بیرونی تشدد کے نئے دور میں نہیں گھسیٹے گا۔

"سخت گیر اور حقیقت پسند"

متوازی طور پر السنوار نے ایک "سخت گیر اور حقیقت پسند" کے طور پر شہرت حاصل کی جس نے اسرائیل سے نمٹنے کے لیے دوہری حکمت عملی کا استعمال کیا، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات تشدد کا رخ بھی کیا۔

جیل سے رہائی کے بعد پیدا ہونے والے اس کے بچے اکثر اس کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شریک ہوتے تھے۔ حماس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے بچے پیدا کرنے کے لیے دو دہائیاں گذاری ہیں، اس لیے وہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔

سنوار نے فتح تحریک اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ناکام مصالحتی مذاکرات بھی جاری رکھے۔

سنہ 2018 میں اسرائیلی میڈیا کے ذریعے شائع ہونے والے ایک غیر معمولی انٹرویو میں السنوار نے ایک اطالوی صحافی کو بتایا کہ جنگ حماس یا اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے۔

مصری حکام جنہوں نے اس کے ساتھ ڈیلنگ کی۔ انہوں نے مصر کے ساتھ تحریک کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک مہم کی قیادت کی جب 2013 کے بعد حماس اور مصر کے درمیان قاہرہ میں اخوان المسلمون کی حکومت ختم ہونے کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے۔

السنوار کو قتل کرنے کی اسرائیلی کوشش

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ السنوار کو 2021 میں بھی مارنا چاہتا تھا۔ اس وقت کی جنگ بندی کے بعد حماس کے رہ نما نے کھل کر غزہ کے گرد مارچ کیا جس سے بہت سے فلسطینیوں نے اسرائیل کا مذاق اڑایا۔

بعد میں ایک ریلی میں انہوں نے ایک مردہ بچے کے ساتھ AK-47 رائفل کےہمراہ تصویر بنائی۔

حماس کے حکام کے مطابق السنوار نے اکثر اسرائیل کے ساتھ وسیع تر جنگ کا مطالبہ کیا ہے جس میں حماس مصروفیت کے نئے اصول وضع کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں