حماس نے ہفتے کی شام کہا ہے کہ اس نے دو مغویوں کو "انسانی بنیادوں پر" رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اسرائیل نے "انہیں وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے"۔
قابل ذکر ہے کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں زیر حراست دو خواتین قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ حماس نے دو مغویوں جوڈتھ اور نٹالی رانان کو رہا کر دیا ہے۔ دونوں یرغمالی وسطی اسرائیل میں ایک فوجی اڈے کی طرف جا رہی تھیں۔
القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک بیان میں کہا کہ "قطری کوششوں کے جواب میں ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دو امریکی قیدیوں (ایک ماں اور اس کی بیٹی) کو رہا کیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکی عوام اور دنیا کے سامنے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ (امریکی صدر جو بائیڈن) اور ان کی انتظامیہ کے الزامات جھوٹے الزامات ہیں جن کی سچائی کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔"
خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ غزہ سے دو امریکی یرغمالیوں کی رہائی تمام فریقوں کے ساتھ "کئی دنوں کے مسلسل رابطوں کے بعد" ہوئی ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے قطری مذاکرات اسرائیل اور حماس کے ساتھ جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک امید کرتا ہے کہ یہ بات چیت تمام اقوام کے تمام شہری یرغمالیوں کی رہائی" کا باعث بنے گی۔
ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ جمعے کے روز غزہ سے رہا ہونے والے دو امریکی قیدی اس وقت انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے پاس ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے دو امریکی اسیران کی تصویر شائع کی ہے جس میں ان کی شناخت 59 سالہ جوڈتھ رانان اور ان کی بیٹی 18 سالہ نٹالی رانان کے نام سے کی گئی ہے۔
حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اپنے اچانک حملے کے دوران درجنوں اسرائیلیوں اور غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا۔ تازہ ترین اسرائیلی اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 203 قیدی ہیں جن میں سے اکثر دہری شہریت کے حامل اور غیر ملکی ہیں۔