فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں تربوز کی کیا کہانی ہے؟

تربوز کا قومی پرچم سے کیا تعلق ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پربہت سی علامتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں خاص طور پر فلسطینی کوفیہ، رومال اور زیتون کی شاخیں کے علاوہ تربوز کا پھل بھی شامل ہے۔

غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑی تو فلسطینیوں سے یکجہتی کی علامت ’تربوز‘ کے پھل کی بھولی بسری کہانی بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگی۔

فلسطینیوں سے جڑی تربوز کی کہانی ہے کیا؟

7 اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے سے شروع ہونے والی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے تناظر میں یہ پھل ان گنت سوشل میڈیا پوسٹس پر دوبارہ نمودار ہوا ہے۔

فلسطینی تربوز کی تاریخ

فلسطینی علامت کے طور پر تربوز کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ پہلی بار 1967ء میں چھ روزہ جنگ کے بعد ظاہر ہوا، جب اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا۔ اس نے مشرقی یروشلم کا الحاق کر لیا۔ اس وقت اسرائیلی حکومت نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی پرچم کو عوامی سطح پر آویزاں کرنے کو مجرمانہ جرم قرار دیا تھا۔

اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق پرچم لہرانے پر اسرائیلی پابندی کے بعد فلسطینیوں نے کٹے ہوئے تربوز کی تصاویر کو پرچم کے متبادل کے طور استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کٹے تربوز کی کاشوں میں تقریبا وہی رنگ ہوتے ہیں جو فلسطینی قومی پرچم میں ہیں۔ ان میں سرخ، سیاہ، سفید اور سبز رنگ شامل ہیں‘‘۔

اسرائیل نے اوسلو معاہدے کے ایک حصے کے طور پر 1993ء میں فلسطینی پرچم پر سے پابندی ہٹا دی تھی، جس میں اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی طرف سے باہمی تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ دہائیوں سے جاری اسرائیل- فلسطینی تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنے والا پہلا رسمی معاہدہ تھا۔

پرچم کو فلسطینی اتھارٹی کی نمائندگی کے طور پر قبول کیا گیا ہے، جو غزہ اور مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کی علامت ہے۔

سنہ 2007ء میں دوسری تحریک انتفاضہ کے فوراً بعد مصور خالد حورانی نے "فلسطین کا سیلف اٹلس" نامی کتاب کے لیے "تربوز کی کہانی" تخلیق کی۔

جرمنی میں ایک مظاہرے کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

سنہ 2013ء میں اس نے ایک ہی ایڈیشن جاری کیا اور اسے فلسطین کے پرچم کے رنگ کا نام دیا، جسے تب سے پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہیں۔

ایک علامت کے طور پر تربوز کا استعمال پھر 2021ء میں دوبارہ سامنے آیا، جب اسرائیلی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد مشرقی یروشلم کے الشیخ جراح محلے میں مقیم فلسطینی خاندانوں کو آباد کاروں کی وجہ سے بےدخل کرنا شروع کیا گیا۔

تربوز آج کی علامت

گذشتہ جنوری میں اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پولیس کو فلسطینی جھنڈوں کو ضبط کرنے کا اختیار دیا تھا۔

اس کے بعد گذشتہ جون میں ایک بل پر ووٹنگ ہوئی جس میں لوگوں پر یونیورسٹیوں سمیت سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے اداروں میں جھنڈا دکھانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔اس بل کی ابتدائی طور پر منظوری دی گئی تھی لیکن بعد میں حکومت گر گئی۔

اسی سال جون میں ایک عرب-اسرائیلی کمیونٹی کی تنظیم ’ززیم‘ نے گرفتاریوں اور جھنڈوں کی ضبطی کے خلاف احتجاج کے لیے ایک مہم شروع کی۔ اس مہم کے تحت تل ابیب میں چلنے والی 16 ٹیکسی گاڑیوں پر تربوز کی تصویریں چڑھائی گئی تھیں، جس کے ساتھ لکھا گیا تھا، "یہ فلسطینی جھنڈا نہیں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں