اسرائیل کے پاس غزہ پر جوہری بم پھینکنے کی آپشن، امریکہ نے بھی مذمت کردی
'بیان قابل قبول نہیں' نائب ترجمان امریکی دفتر خارجہ
امریکہ نے اسرائیلی کابینہ کے رکن کی طرف سے غزہ کو ہیروشیما اور ناگا ساکی کی طرح جوہری بم کا نشانہ بنانے کے دھمکی نما عندیہ کی مذمت کی اور کہ یہ بیان جو ایک جونئیر وزیر کی طرف سے آیا ہے 'مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ '
امریکہ کے دفتر خارجہ کے نائب ترجمان وینڈنت پٹیل نے اس معاملے پر ایک مختصر مگر جامع بیان دیا ہے جس میں امریکہ کی طرف سے نیتن یاہو کابینہ کے رکن اور جیوش نیشنل فرنٹ سے تعلق رکھنے والے بیان میں کہا ہے ' ہم متواتر یہ یقین رکھتے ہیں کہ تصادم کے تمام فریقوں نفرت انگیز انداز بیان سے گریز کرنا چاہیے۔ '
واضح رہے پچھلے دنوں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے ایک رپورٹ میں کہا گا تھا کہ اسرائیل نے غزہ اور لبنانی سرحد کے نزدیک فاسفورس بموں کا استعمال کیا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں ابھی تک کسی متعلق عالمی ادارے نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔
البتہ یہ خوش آئند ہے کہ غزہ میں جوہری بم استعمال کرنے کی ' آپشن ' کے موجود ہونے کے بارے میں اسرائیلی کابینہ کے ایک رکن کے کھلے عام بیان پر امریکہ نے بھی مذمت کر دی ہے۔ یقیناً جوہری بم کی تباہی کی اصل کہانی امریکہ بہتر جانتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ملک جوہری بم کے زخموں کو سمجھتا ہے تو وہ جاپان ہے جس کے شہریوں پر یہ جوہری بم گرائے گئے تھے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز اپنی کابینہ کے اس رکن کو ضابطے کے تحت لانے کی بات کی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں اسرائیل کی اس بارے میں مذمت جاری ہے۔