غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہر گذرتے لمحے قتل وغارت گری کے المناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک 10,000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں سے نصف کے قریب بچے ہیں اور تقریباً 26,000 دیگر زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں کو نہ خوراک میسر ہے ، نہ پانی نہ بجلی اور بہ بنیادی سہولیات میسر ہیں۔
غزہ کی ایک مصیبت زدہ لڑکی جس کا پورا خاندان مارا گیا نے کہا کہ "میرا خاندان مر گیا ہے، میرے خاندان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے، ہم جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے‘‘۔
فتاة من #غزة تصرخ بعد مقتل عدد من أفراد عائلتها بينهم والدتها: "أوقفوا الحرب"#العربية pic.twitter.com/a6FYoFsWZk
— العربية (@AlArabiya) November 8, 2023
جب اس کے خاندان کے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو مر چکے تھے، تو اس نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ "میری ماں، میری بہنیں، میرے دادا، میرے شوہر اور میرے چچا اور کئی دوسرے اقارب شہید ہوچکے"۔
اس نے چلا کر کہا کہ "جنگ ختم کرو، میری ماں مرگئی وہ میرے بیٹے کے لیے کھانا بنا رہی تھی۔ انھوں نے گھر پر بمباری کی۔ پورا گھر ہم پر آ گرا۔ خدا کی قسم میں کسی بھی شہری کے گھر بیٹھنے سے ڈرتی ہوں۔ گھر نہیں ہے‘‘۔ ہمارے سارے گھر تباہ ہو گئے‘‘۔
اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیمیں، عرب دنیا کے رہ نما اور دنیا کے دیگر ممالک جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر واشنگٹن غزہ میں جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتا۔
-
فلسطینی ڈاکٹر جو ہسپتال میں اپنے خاندان کی لاشیں دیکھ کرکانپ کر رہ گیا
غزہ کے بہادر ڈاکٹر ایاد شقورہ جس نے ہسپتال میں اپنی ماں ،بہن، دو بھاییوں، دو ...
ایڈیٹر کی پسند -
غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری سے طبی عملے کے192 کارکن شہید
فلسطینی خاتون وزیر صحت نے آج بدھ کو اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے سے انکار،برطانوی پارٹی کے رہنما کو اختلاف کا سامنا
حماس-اسرائیل جنگ کے بارے میں برطانیہ میں حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے مرکزی رہنما ...
بين الاقوامى