اسرائیل حماس جنگ بندی کو وسعت دینے کے لیے اسرائیلی سلامتی یقینی بنانا لازم ہے:میکروں

عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے وفد کی صدر میکروں سے ملاقات کے دوران اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دوہری وسعت پیدا کرتے ہوئے ایک طرف 50 مغویوں کی رہائی سے زیادہ کو رہا کرنے پر آمادگی ہو اور جنگ بندی کو چار دنوں کے بجائے قائم رہنے والی جنگ بندی بنایا جائے لیکن اس کے لیے اولین ضرورت اسرائیلی سلامتی کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا۔

فرانس کی طرف سے یہ بات صدر عمانوئیل میکروں نے بدھ کے روز کہی ہے۔ عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ایک وفد کے ساتھ اسرائیل غزہ جنگ کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔

رواں ماہ کے شروع میں عرب اسلامی کانفرنس کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں صورت حال اور خطے پر اثرات کے حوالے سے اہم ملکوں کے ساتھ اجتماعی رابطے کا فیصلہ کیا تھا۔

اتفاق سے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقاتیں پہلے چین اور روس میں ہوئیں تو اس وقت ابھی اسرائیل حماس کے درمیان جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ لیکن جب یہ وزرائے خارجہ فرانس پہنچے تو یہ بڑا واقعہ ہو چکا تھا۔

جنگ بندی کے اعلان کے مطابق حماس اسرائیل کے 50 قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ اسرائیل اپنی جیلوں میں بند 150 قیدیوں کو رہائی دے گا۔ اسی طرح چار دنوں تک دونوں طرف سے جنگ بندی فیصلے پر عمل کیا جائے گا اور اس دوران غزہ میں امدادی کارروائوں کو بلا روک ٹوک جاری رکھا جاسکے گا۔

فرانس کے صدر نے انہی معاملات کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم اس کے لیے اسرائیلی سلامتی کی یقین دہانی کو اہم قرار دیا ۔اس موقع پر فرانسیسی صدر نے زور دے کر کہا ہر ایک کو اسرائیلی سلامتی کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔

میکروں نے سعودی وزیر خارجہ کے زیر قیادت آنے والے عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کو صاف صاف کہا ' اسرائیل کی سلامتی کی یقین دہانی کے بغیر کوئی طویل مدتی جنگ بندی نہیں ہو سکتی ہے۔ '

وزرائے خارجہ میں سعودی عرب کے علاوہ مصر، اردن، فلسطینی اتھارٹی، انڈونیشیا ، ترکیہ، نائیجیریا کے وزرائے خارجہ کے علاوہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی شامل ہیں۔

میکروں کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس موقع پر مصری وزیر خارجہ کی اس خواہش کا اظہار بھی سامنے آیا کہ مصر غزہ تک انسانی بنیادوں پر رسائی دینے کو تیار ہے، تاہم اس کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک قرار داد منظور کرانی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں