فلسطین اسرائیل تنازع

متحدہ عرب امارات میں زیرِ علاج 1000 بچوں میں سے غزہ کی 10 سالہ بچی کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وہ کبھی سو جاتی اور کبھی جاگ جاتی تھی۔ اس کے چہرے کے ایک طرف زخموں کے نشانات اب بھی نظر آ رہے تھے۔ اس کی ناک پر پٹی بندھی تھی اور ایک نتھنے میں ٹیوب تھی۔ ایک ہاتھ پر پٹی بندھی تھی اور دونوں میں کینولا لگے ہوئے تھے۔

دس سالہ میرا ابو اوکل اسٹریچر پر لیٹی واضح طور پر تھکی ہوئی نظر آتی تھی۔ چمکدار گلابی پھولوں والے سرمئی کمبل میں اس کے چھوٹے سے جسم کا بیشتر حصہ ڈھکا ہوا تھا۔ وہ آخرِکار ایک نئے ہسپتال جانے کے لیے ہوائی جہاز میں سوار تھی۔

میرا غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار بچوں میں سے ایک ہے جس کا اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں زخمی ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات میں علاج ہو گا۔

جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر روزانہ حملے کر کے 7 اکتوبر کے حملے کا جواب دیا تو میرا نے شمالی غزہ میں اپنا گھر چھوڑ دیا۔

ہفتوں کی شدید فضائی بمباری اور زمینی حملے نے شمالی غزہ کے وسیع علاقے کو مسمار اور ہزاروں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جب شمال میں رہنا غیر محفوظ ہو گیا تو میرا اپنے خاندان کے ساتھ وسطی غزہ چلی گئی۔

27 اکتوبر کو وہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ بیٹھی ان کے فون پر ویڈیوز دیکھ رہی تھی جب ان کے ہمسایہ گھر پر حملہ ہوا۔ دھماکے کی شدت نے میرا کو ہوا میں اڑا کر زمین پر پٹخ دیا۔

میرا کی بڑی بہن ناہیل جب اتحاد ایئرویز کی فلائٹ میں بیٹھی تھیں جس کا مقصد ان دونوں کو متحدہ عرب امارات لے جانا تھا تو انہوں نے بتایا، "میری بہن کی کھوپڑی اور چہرے میں فریکچر ہو گیا، ناک ٹوٹ گئی اور برین ہیمرج ہو گیا۔ دو دن بعد اس کی سرجری کی گئی جس میں انہوں نے خون بہنے سے روکنے کے لیے اس کی کھوپڑی کا ایک حصہ نکال دیا۔"

غزہ کے ہسپتالوں میں ابتدائی علاج کے بعد اس کے لیے ضروری نگہداشت حاصل کرنا بہت مشکل ہو گیا۔

غزہ کے ہسپتالوں میں آلات کی شدید قلت تھی اور زخمیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے وہاں ہجوم تھا۔ اسرائیل کے حملوں سے کئی ہسپتال بھی متاثر ہوئے کیونکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ عمارتوں کے نیچے حماس نے سرنگیں بنا رکھی ہیں۔

جہاز پر سوار ہونے کا سفر طویل تھا؛ غزہ سے نکلنے اور رفح کے راستے مصر پہنچنے کے بعد دونوں بہنوں نے 10 دن انتظار کیا کہ میرا کی حالت مستحکم ہو اور وہ ہوائی سفر کرنے کے قابل ہو جائے۔ پیر کی صبح سویرے میرا اور ناہیل ابوظہبی جانے والے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے لیے العریش ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ وہ 1000 بچوں اور خاندان کے افراد کو مفت علاج کے لیے اپنے ملک لائے گا۔

یونیسیف کے مطابق غزہ میں 1.6 ملین افراد اندرونی طور پر بے گھر ہیں جن میں سے نصف بچے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اس جنگ کے دوران مبینہ طور پر 5000 کے قریب بچے ہلاک ہو گئے اور 10,000 کے قریب زخمی ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کی فضائی بمباری اور شمال میں زمینی حملے میں 13,300 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور چونکہ حکام نے 11 نومبر سے شمال میں خدمات کی فراہمی رک جانے کی وجہ سے صرف وقفے وقفے سے اعداد و شمار کو تازہ کیا ہے تو یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ مزید ہزاروں افراد لاپتہ ہیں اور ان کی ملبے تلے ہلاکت کا خدشہ ہے۔

ناہیل کہتی ہیں کہ ان کے سامنے ایک طویل راستہ ہے؛ میرا کے علاج میں مہینوں لگیں گے۔ وہ اپنی بہن کے ساتھ صبر سے انتظار کرتے ہوئے اپنے گھر کے بہتر مستقبل کے لیے دعا گو ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں