ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدے کی تجدید کرنا وقت کے ساتھ ساتھ بے کار ہوتی جا رہی ہے:ایرانی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں تیزی سے بے کار ہوتی جا رہی ہیں۔ اس جوہری معاہدے کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 2018 کے دوران ختم کر دیا گیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے تہران یونیورسٹی میں ایک خطاب کے دوران کہا ' آج ہم جتنا آگے جارہے ہیں عالمی طاقتوں کا کیا ہواجوہری معاہدہ ( جے سی پی او اے) اسی قدر بے فائدہ ہوتا جارہا ہے۔' واضح رہے ایران نے 2015 میں اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے بدلے میں اپنا جوہری پروگرام روکنے سے اتفاق کر لیا تھا۔

لیکن جب عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو گئے تو امریکہ 2018 میں اپنے طور پر اس سے دستبردار ہو گیا اور امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر دیں۔

بعد ازاں اس معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں مگر امریکہ کی طرف سے یہ بھی 2022 کے وسط میں روک دی گئیں۔ تب سے یہ معاملہ وہیں رکا ہوا ہے۔

وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا' بعض اوقات ایران کی سرخ لکیروں کو دوسری جانب سے نظر انداز کیا گیا ہے، اس لیے ہم فی الحال مذاکرات کی طرف واپسی کے راستے پر نہیں ہیں۔ '

انہوں ساتھ ہی وضاحت کرتے ہوئے کہا ' یقیناً اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم نے اس معاہدے کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اگر معاہدہ ہمارے مفاد میں ہو گا تو ہم اس معاہدے کو بعض نقائص کے باوجود قبول کر لیں گے۔'

ادھر انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی( آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے پچھلے اکتوبر میں یہ کہا تھا ' بین الاقوامی برادری کو ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں ناکام نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ اس سے پہلے شمالی کوریا کے حوالے سے ہو چکا ہے اور شمالی کوریا اب جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔ '

خیال رہے اسرائیل کے ایک وزیر نے اسی ماہ اکتوبر کے دوران غزہ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کو ایک سوچی سمجھی آپشن کے طور پر بیان کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اسرائیل کے پاس بھی جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں