اردنی فورسز کی شامی سرحد پر منشیات سمگلروں کے ساتھ جھڑپ میں ایک فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی فوج نے منگل کے روز صبح سویرے شامی سرحد پر منشیات سمگلروں کے ساتھ جھڑپ کی اطلاع دی ہے۔ فوج کے مطابق کئی سمگلر ہلاک ہو گئے تاہم ایک اردنی فوجی بھی اس جھڑپ میں کام آیا ہے۔

فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سمگلروں کا ایک بڑا گروپ سرحد کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ واقعہ شامی سرحد کی طرف سے ہوا۔ یہ سمگلر صبح کے وقت چھائی ہوئی دھند کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، تاہم انہیں روک لیا گیا۔

اس دوران بھاری فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ایک ہفتہ پہلے بھی منشیات سمگلروں کا ایک گروپ بھاری مقدار میں کیپٹا گون سمگل کرنے کی کوشش میں تھا، جب اس پر فائرنگ کر کے تین سمگلر مار دیے گئے۔

منگل کے روز بھی جب یہ سمگلر دھند کا فائدہ اٹھا کر داخل ہو رہے تھے تو انہیں ناکام بنا دیا گیا۔ ان میں سے کئی کو ہلاک اور باقی کو واپس شامی سرحد کی طرف دھکیل دیا گیا۔

فوج کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ منشیات سمگلروں کے ساتھ اردنی فوج کی جھڑپ 370 کلو میٹر تک پھیلی سرحد کے حصے میں پیش آئی۔ البتہ ذرائع نے بتایا ہے کہ جھڑپ کا علاقہ اردنی شہر مفراق کے شمال مشرق کی طرف تھا۔

فوج نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ قومی و سرحدی تحفظ کے خلاف کسی بھی کوشش کو پوری طاقت سے ناکام بنا دیا جائے گا۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کے انسداد منشیات کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ شام منشیات کی سمگلنگ کے حوالے اربوں ڈالر کی تجارت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سمگلر شامی سرحد کے راستے خلیجی ریاستوں تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔

اردن کے حکام بھی امریکہ اور مغربی ممالک کے اس دعوے کے ساتھ ہم آواز ہیں۔ اس سلسلے میں منشیات کی سمگلنگ میں حزب اللہ پر الزام عاید کیا جاتا ہے جبکہ حزب اللہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ماہرین اور واشنگٹن کے مطابق منشیات سے حاصل ہونے والی رقم ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا اور شامی حکومت کی حامی پیرا ملٹری فورسز کے کام آتی ہے۔

اس تناظر میں امریکہ نے اردن سے وعدہ کر رکھا ہے کہ اردن کو فوجی امداد دی جائے گی ۔ واضح رہے جب سے شام میں تنازعہ پیدا ہوا ہے کہ امریکہ نے اردن کو ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم دی ہے تاکہ سرحدی چوکیوں کو مضبوط کر لے۔

اردن کے سینئیر حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام کے ساتھ ان امور پر اپنی تشویش شئیر کر چکے ہیں۔ اسی طرح روسی حکام کے ساتھ بھی اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔

شام منشیات روکنے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی بات کرتا ہے تاہم اس سے حزب اللہ کے کسی تعلق کی تردید کرتا ہے۔ ایران ان الزامات کو روایتی مغربی الزامات کا نام دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں