فلسطین اسرائیل تنازع

ماہواری غزہ کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک آزمائش، صحت کے لیے خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں ماہواری سے گذرنے والی خواتین اور لڑکیوں کو ذلت آمیز حالات اور انفیکشن کا سامنا ہے جو دو ماہ سے زیادہ جنگ کے بعد بچوں کے لنگوٹ یا ردی کپڑے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

غزہ میں خوراک، پانی اور حفظانِ صحت کی اشیاء کی شدید قلت ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ کے باعث اس کے 2.4 ملین افراد میں سے 80 فیصد بے گھر ہو چکے ہیں۔

رفح کا جنوبی شہر جہاں سے بہت سے لوگ بھاگ گئے ہیں، یہاں کی 25 سالہ ہالا عطایا نے کہا، "میں اپنے بچے کے کپڑے یا کپڑے کا کوئی بھی ٹکڑا جو مجھے ملے، اسے کاٹ کر اپنی ماہواری کے لیے سینیٹری تولیوں کے طور پر استعمال کرتی ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "میں بمشکل ہر دو ہفتے بعد نہاتی ہوں۔"

شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو کر وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ایک اسکول آ گئیں جہاں سینکڑوں دوسرے لوگوں کے ساتھ مشترکہ بیت الخلاء اور غسل خانہ استعمال کرنا پڑا۔

مکھیوں سے بھرے بیت الخلاء میں بدبو سے متلی ہونے لگتی ہے۔

مصر کی سرحد سے ملحقہ رفح کی سڑکیں کھلے بیت الخلاء میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

شہر کو کچرے کے ڈھیروں نے ڈھک دیا ہے جو ایک وسیع پناہ گزین کیمپ بن گیا ہے کیونکہ غزہ کے زیادہ تر باشندوں کو علاقہ چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔

غزہ شہر سے بے گھر ہونے والی 18 سالہ ثمر شلہوب نے کہا، "ہم پتھر کے زمانے میں واپس چلے گئے ہیں۔ نہ کوئی تحفظ، نہ کھانا، نہ پانی، نہ حفظانِ صحت۔ میں شرمندہ ہوں، مجھے ذلت محسوس ہوتی ہے۔"

وہ مختلف عارضی پناہ گاہوں میں رہی ہیں جن کو انہوں نے "گندگی" سے لبریز قرار دیا۔

یہ جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں کے غیر معمولی حملوں سے شروع ہوئی جس میں مقامی حکام کے مطابق اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِانتظام غزہ میں وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائی میں تقریباً 18,000 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

'وہ رونے لگی'

سینیٹری مصنوعات حاصل کرنے سے قاصر شلہوب کو ماہواری کے وقت چیتھڑے استعمال کرنا پڑتے ہیں جو "سوزش اور جلدی انفیکشن" کا سبب بنتے ہیں۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی میری-اوری پیریوٹ ریوائل نے کہا، مانع حمل گولیوں کی درخواستوں میں چار گنا اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ خواتین اپنی ماہواری کو کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔

ایکشن ایڈ نے کہا، نہانے دھونے کے لیے بہت کم پانی ہے اور یہ کہ کچھ پناہ گاہوں میں ہر 700 افراد کے لیے صرف ایک غسل خانہ اور ہر 150 کے لیے ایک بیت الخلاء ہے۔

این جی او نے کہا، "یہاں بالکل کچھ نہیں ہے: کوئی پردہ داری نہیں، خود کو صاف رکھنے کے لیے کوئی صابن نہیں، ماہواری کا کوئی سامان نہیں۔"

اپنی بے گھری کے تیسرے مہینے کا سامنا کرنے والی احمد ابو بریقہ نے ذاتی حفظانِ صحت کو ایک "روزانہ کی جنگ" قرار دیا۔

ابو بریقہ نے کہا، "خواتین لنگوٹ یا بچے کو لپیٹنے والے کپڑے پہنتی ہیں۔ پانی کافی نہیں ہے۔"

وہ کم کھاتی پیتی رہی ہیں – تاکہ اپنے پانچ بچوں کو زیادہ دے سکیں اور بیت الخلاء جانے کی ضرورت کو محدود کر سکیں۔

انہوں نے کہا۔ "میرا وزن 15 کلو کم ہو گیا ہے۔"

ایک اور این جی او ایکشن اگینسٹ ہنگر نے کہا کہ بہت سی خواتین کے کپڑے ماہواری کے خون سے داغدار تھے اور وہ "ماہواری کی مصنوعات کو توقع سے زیادہ دیر تک استعمال کر رہی تھیں جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔"

غزہ کے بے گھر لوگوں کے لیے سونے کے کمرے کا کام دینے والے ایک کمرۂ جماعت میں ام سیف نے کہا کہ ان کی پانچوں بیٹیاں ماہواری کے لیے "پیمپرز استعمال کر رہی تھیں"۔

جنگ کے بعد سے ڈائپر کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں اس لیے انہوں نے ہر ایک کو کاٹ کر دو کر دیئے ہیں لیکن ایک بیٹی کو اب بھی کپڑے کے سکریپ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

سیف نے کہا۔ "وہ رونے لگی لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں