باب المندب میں بحری جہازوں پر حملے، حوثیوں کا دو کشتیوں پر راکٹ حملے کا اعتراف
ہم دنیا بھر کی بندرگاہوں کو جانے والے کارگو جہازوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اسرائیل کو جاتے جہازوں کے علاوہ کسی بھی کارگو جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا: حوثی ترجمان
یمن کے حوثی باغیوں کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ گروپ نے دو بحری جہازوں پر میزائل حملہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ہم نے ایم ایس سی الانیا اور ایم ایس سی پلاٹیوم تھری کو نشانہ بنایا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جانے والی دو کشتیوں کو نیول میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ کشتی کے عملے کی جانب سے یمنی نیوی کی کالز موصول نہ کرنے اور انتباہی میسجز کو نظر انداز کرنے پر انہیں میزائلوں کا نشانہ بنایا۔
ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم دنیا بھر کی بندرگاہوں کو جانے والے کارگو جہازوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اسرائیل کو جاتے جہازوں کے علاوہ کسی بھی کارگو جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
BREAKING:
— Globe Eye News (@GlobeEyeNews) December 15, 2023
Yemen's Houthis partially destroyed the Maersk Gebalatir container ship using Drones. pic.twitter.com/KVfrBSbLxi
برطانوی ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسے ایک دھماکے کے نتیجے میں لگنے والی آگ کو کامیابی سے بجھانے کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور یہ آگ یمن کے شہر المخا سے تقریبا 30 بحری میل دور جنوب مغرب میں جمعہ کو ایک بحری جہاز میں لگی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ جہاز اور اس کا عملہ "اب کے لیے محفوظ ہیں۔"
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایک دوسرے کارگو بحری جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ عہدیدار کے مطابق اس بحری جہاز کی مدد کے لیے امریکی بحریہ کے جہاز میسن کو روانہ کر دیا گیا ہے۔
UKMTO WARNING 011/DEC/2023
— United Kingdom Maritime Trade Operations (UKMTO) (@UK_MTO) December 15, 2023
INCIDENT
Warnings - 2023 (https://t.co/5An1YH0JyE)#MaritimeSecurity #MarSec pic.twitter.com/Vdj3ItrP3F
حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا مقصد غزہ کی پٹی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی اور زمینی حملے کو ختم کرنا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے سے آبنائے باب المندب کے شمال میں بین الاقوامی جہاز رانی کی راہداری کی طرف بیلسٹک میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی تھی۔
امریکی کمانڈ نے کہا کہ حوثی میزائل حملے کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
بیان میں مزید کہا کہ "اس واقعے میں امریکی افواج نے مداخلت نہیں کی۔ امریکی فوج صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔"
موقع أكسيوس: وصول السفن التجارية إلى ميناء #إيلات توقّف بشكل شبه كامل بسبب هجمات #ميليشيا_الحوثي #الحدث pic.twitter.com/lVF0Muscwj
— ا لـحـدث (@AlHadath) December 15, 2023
Axios نیوز ویب سائٹ نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے جنوبی اسرائیل میں ایلات کی بندرگاہ پر بحری جہازوں کی آمد تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔
اس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ نے متعدد چینلز کے ذریعے حوثیوں کو متنبہ کیا کہ وہ سمندر میں بحری جہازوں پر حملوں سے باز رہیں۔