اسرائیلی فوج کی غزہ میں ’نان گائیڈڈ‘ بم استعمال کرنے کے امریکی الزام کی تردید

ہمیں غزہ جنگ کے حوالے سے امریکی ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں، ہم اپنے اصول تبدیل نہیں کرتے:اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر اندھا دھند بمباری کے دوران ’نان گائیڈد‘ بموں کے بے دریغ استعمال سے متعلق امریکی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ڈھٹائی کے ساتھ کہا ہے کہ امریکیوں کو یہ جاننے کی قطعی ضرورت نہیں کہ ہم غزہ میں سولین کے تحفظ کے لیے کیا کررہے ہیں؟۔

تل ابیب کے جنوب میں پالماشیم ایئر بیس پر چند صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران اسرائیلی فوج کے ایک سینیر افسر نے کہا کہ ’’ان کی نوعیت کچھ بھی ہو ہم جتنے بھی بم استعمال کرتے ہیں وہ ہائی پریسین بم ہیں‘‘۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اعلیٰ ترین نشانے کے مطابق چلنے والے بم ہیں جن میں ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے کئی عوامل موجود ہیں۔ ان میں گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS)، کیمرے اور جنگی طیاروں سے لیس کمپیوٹرزسسٹم شامل ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی چنگاری 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل پر مزاحمت کاروں کے اچانک حملے سے اٹھی جو اس وقت تباہ کن جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے۔

حماس کے پہلے روز کیے گئے حملوں میں تقریباً 1,140 اسرائیلی ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اپنے حملے کے دوران حماس کے جنگجو تقریباً 250 افراد کو اپنے ساتھ غزہ لے گئے جنہیں حماس نے پٹی میں یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان میں سے حماس نے اب تک ان میں سے 110 یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے تنظیم کو "ختم" کرنے کا عزم کیا اور بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیا جس نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ غزہ میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی بمباری میں کم از کم 19,453 افراد شہید ہوئے، جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے تھے۔

غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اس غیرمعمولی تعداد نے عالمی سطح پر اسرائیل کو تنہا کردیا اور ہر طرف سے اسرائیل کی مذمت کی لہر بڑھتی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کا سب سے بڑ پشت پناہ اور سرپرست امریکا بھی تل ابیب کو غیر معمولی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت کی تبدیلی پر زور دے رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی "اندھا دھند بمباری" کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلیوں کو شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے "زیادہ محتاط" رہنا چاہیے۔

"ہمیں امریکیوں کی ضرورت نہیں"

ان تنقیدوں کے جواب میں سینیر اسرائیلی عہدیدارنے کہا کہ ’’ہمیں امریکیوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم فلسطینی شہریوں کے نقصانات کو جس طرح محدود کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ"ہمیں اپنے اصولوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم نے شروع سے ہی ان کا احترام کیا ہے اور ہم اب بھی ان پر چل رہے ہیں"۔

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تیار کردہ ایک رپورٹ اور میڈیا میں شائع ہونے والے اس کے مواد کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی طیاروں کی طرف سے فائر کیے جانے والے گولہ بارود میں سے نصف نان گائیڈڈ روایتی بم تھے، جنہیں عام طور پر "ڈمپ بم" کہا جاتا ہے۔

اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی عہدیدار نے نے کہا کہ "میں نان گائیڈڈ بموں کے بارے میں میڈیا مین جاری بحث سے واقف ہوں، مگر یہ واضح کرتا ہوں کہ اس جنگ میں ہم نے کوئی ’ان گائیڈڈ‘ بم نہیں گرایا۔

خیال رہے کہ امریکا کی طرف سےسامنے آنے والی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگ کے دوران 45 فی صد ایسے روایتی بم گرائے جوگنجان آباد علاقوں میں گرنے کی وجہ سے بے پناہ جانی نقصان کا باعث بنے۔ ایسے بم کسی مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے کے بجائے طیاروں سے گرائے جاتے ہیں جو سیدھی زمین پر گرتے ہیں اور تباہی مچاتے ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے الزامات کے باوجود امریکی حکومت صہیونی فوج کو گولہ بارود سپلائی کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں