فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کے سربراہ مصر میں غزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے اہم مذاکرات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی مزاحمت کار گروپ کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر گفتگو کے لیے بدھ کو مصر کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ذریعے نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا کہ قطر میں مقیم ہنیہ حماس کے ایک "اعلیٰ سطحی" وفد کی قیادت کریں گے جہاں ان کے مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل اور دیگر کے ساتھ مذاکرات طے شدہ ہیں۔

ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کیونکہ اسے اس دورے کے بارے میں بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، "گفتگو جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہو گی تاکہ قیدیوں کی رہائی (اور) غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ محاصرے کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ تیار ہو سکے۔"

گذشتہ ماہ ایک ہفتہ طویل جنگ بندی معاہدے کے تحت جس میں قطر نے مصر اور امریکہ کی حمایت سے مذاکرات میں مدد کی تھی، اسرائیلی جیلوں میں قید 240 فلسطینیوں کے بدلے 80 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

حماس کے ذریعے کے مطابق مصر میں ہونے والے مذاکرات "انسانی امداد کی فراہمی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور شمال میں بے گھر ہونے والے افراد کی ان کے قصبوں اور دیہاتوں میں واپسی" پر مرکوز ہوں گے۔

نومبر کے اوائل میں ایک دورے کے بعد ہنیہ کا 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ مصر کا دوسرا دورہ ہوگا۔

امریکی نیوز پلیٹ فارم ایکزیاس نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے نئے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کے لیے قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز سے یورپ میں ملاقات کی۔

منگل کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے "اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے عمل کو فروغ دینے کے لیے موساد کے سربراہ کو دو بار یورپ بھیجا ہے۔"

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "میں اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا اور ہمارا فرض ہے کہ ان سب کو واپس لایا جائے۔"

منگل کو یرغمالی خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا، "انہیں بچانا اہم ترین کام ہے۔"

غصہ، خوف اور یرغمالیوں کے اہل خانہ کی طرف سے جنگ بندی کے مطالبات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب غزہ میں اسرائیلی فورسز نے غلطی سے تین اسیروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جو اپنے اغوا کاروں سے فرار ہو گئے تھے۔

تازہ ترین سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق تنگ علاقے میں اب تک کی مہلک ترین جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں کے سرحد پار سے اسرائیل میں داخلے کے بعد شروع ہوئی جس میں تقریباً 1,140 افراد کو ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

تازہ ترین اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق مزاحمت کاروں نے اپنے حملے کے دوران تقریباً 250 افراد کو اغوا کیا۔

فلسطینی سرزمین کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی بمباری اور حماس کے خلاف زمینی کارروائی میں غزہ میں کم از کم 19,667 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں