اسرائیلی فوج نےکمال عدوان ہسپتال میں "لاشوں کوبےرحمی سےمسخ ڈالا‘‘:سی این این کاانکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ نے غزہ کی پٹی کے کمال عدوان ہسپتال پر اسرائیلی فوج کی چڑھائی اور اس کے بعد وہاں پر لاشوں اور زخمیوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے بے رحمانہ سلوک کے لرزہ خیز وقعات کا پردہ چکا کیا ہے۔

امریکی ٹی وی جو اسرائیلی فوج کے جرائم پر کم ہی رپورٹنگ کرتا ہے نے بتایا کہ غزہ کے کمال عدوان ہسپتال پر اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں سے لاشوں کو بری طرح روند ڈالا اور ایک اپاہج شخص پر کتے چھوڑ دیے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ملازمین اور مریضوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوجیوں نے مرنے والوں کی لاشوں کو بلڈوز کیا، فوجی کتے کو وہیل چیئر پر بیٹھے ایک شخص پر حملہ کرنے کے لیے اسے کھلا چھوڑا اور کئی ڈاکٹروں کو بھی گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ حالانکہ یقینی طور پر ان ڈاکٹروں کا حماس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔

امریکی نیٹ ورک نے دو سینیر ڈاکٹروں ، طبی عملے اور ہسپتال کے ایک مریض سے بھی بات کی، جنہوں نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ایک جیسے بیانات دیے۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ پر بنائی گئی فوٹیج سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نےہسپتال میں موجود لاشوں پر بلڈوز چڑھا دیے تھے۔

لاشیں گھسیٹنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال

کمال عدوان اسپتال میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق سب سے سنگین الزامات میں سے ایک یہ ہے کہ "جب فورسز ہسپتال کے احاطے سے نکل رہی تھیں تو اس نے بلڈوزر کے استعمال سے لاشوں کو راستے سے ہٹایا۔ ان لاشوں کو عارضی طور پر ہسپتال کے صحن میں دفن کیا گیا تھا۔

درایں اثناء ہسپتال میں بچوں کی خدمات کے سربراہ حسام ابو صفیہ نے ہفتے کے روز ایک فون انٹرویو میں کہا کہ "فوجیوں نے آج صبح قبریں کھودیں، لاشیں نکالیں اور پھر انھیں بلڈوزر سے کچل دیا۔ میں نے کبھی ایسا بھیانک منظر نہیں دیکھا تھا"۔

انہوں نے سی این این کے ساتھ جو ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں وہ پورے ہسپتال میں بکھری ہوئی انسانی باقیات کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس بات کی تائید ہسپتال کے شعبہ نرسنگ کی سربراہ عید صباح اور ایک دوسری نرس عاصمہ طنطیش نے بھی کی۔

"انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے لاشیں روندیں"

طنطیش نے سی این این کو بتایا کہ "لاشیں ہماری آنکھوں کے سامنے صحن میں بلاڈوزوں کے سامنے روندی گئیں۔ ہم چیختے اور روتے رہے، لیکن ہماری فریاد بہرے کانوں پر نہیں پڑی۔"

کمال عدوان ہسپتال میں اسرائیلی فوج کا آپریشن 8 روز تک جاری رہا اور اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اسے حماس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے طور پر استعمال کر رہی تھی مگر قابض فوج اس کا ثبوت فراہم نہیں کرسکی۔

15 دسمبر کو اسرائیلی فوج کے ہسپتال کے علاقے سے انخلاء سے عین قبل لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ہسپتال کے احاطے کے باہر تباہ شدہ زمین دکھائی گئی ہے۔

زیر حراست افراد عام شہری ہیں

اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی فوج نے ہسپتال کے ڈائریکٹر سے پوچھ گچھ کی ایک ویڈیو جاری کی اور اس کے ساتھ ایک بیان شائع کیا جس میں کہا گیا کہ اس نے "ہسپتال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے"۔

ابو صفیہ اور صباح نے جواب دیا کہ "ہسپتال صرف طبی خدمات فراہم کرتا ہے جب کہ حراست میں لیے گئے افراد عام شہری اور طبی عملے کے کارکن ہیں"۔

اسرائیلی فوج نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ہسپتال میں فوجی آپریشن کیا تھا۔

دریں اثناء فلسطینی وزیر صحت نے ان رپورٹس کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کمال عدوان ہسپتال کے صحن میں زخمیوں کو زندہ دفن کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں